ابنا: دس سال پہلے سات اکتوبر کو اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے دہشت گردی سے مقابلے اور گیارہ ستمبر کے واقعات کا انتقام لینے کے بہانے افغانستان پر حملے اور اس پر قبضے کا حکم صادر کیا تھا۔یہ جنگ بظاہر افغانستان میں طالبان حکومت کی سرنگونی اور القاعدہ کی نابودی کے مقصد سے شروع کی گئی تھی۔اگرچہ چند ہفتوں میں ہی طالبان حکومت کا خاتمہ ہوگيا لیکن جنگ افغانستان دس سال کے بعد بھی جاری ہے۔ جنگ افغانستان ایسے حالات میں گيارہویں سال میں داخل ہوئي ہے کہ یہ جنگ امریکی تاریخ کی سب سے طویل جنگ بن گئی ہے۔اس وقت افغانستان میں تقریبا" ایک لاکھ تیس ہزار غیرملکی فوجی تعینات ہیں جن میں سب سے زیادہ تعداد امریکی فوجیوں کی ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ سال کے دوران دس ہزار افغان شہری جنگ افغانستان میں مارے گئے ہیں اور ڈھائي ہزار غیرملکی فوجیوں کی بھی ہلاکت کا اعلان کیا گيا ہے جن میں اکثریت امریکی فوجیوں کی ہے۔بہت سے سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ افغانستان امریکہ کو کامیابی کے بجائے سنگین شکست سے دوچار کرے گي۔مثال کے طورپر اتحادی افواج کے سابق کمانڈر ریٹائرڈ جنرل اسٹینلی میک کرسٹل نے کہا ہے کہ امریکہ اور نیٹو افغانستان میں جنگ شروع کرنے کے دس سال بعد بھی اپنے تمام اہداف کو حاصل نہیں کرسکے ہیں۔میک کرسٹل نے امریکہ کی خارجہ تعلقات کی کونسل میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور نیٹو افغانستان میں اپنے اہداف کا صرف آدھا حصہ ہی حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکے ہیں۔افغانستان میں امریکہ کی دس سالہ موجودگي افغانستان میں طالبان کی دوبارہ واپسی پر مبنی نئي علامات ظاہر ہونے کی وجہ سے اس بات کی غماز ہے کہ امریکہ نے گزشتہ دس سالوں میں اپنے اتحادیوں اور اپنے شہریوں کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ یہ مسئلہ امریکہ کے بعض اتحادی ممالک میں حکومت مخالف گروپوں کے اقتدار میں آنے اور افغانستان سے اپنی فوج واپس بلانے کا باعث بنا اور جن ممالک نے ابھی افغانستان میں اپنی فوج باقی رکھی ہے ان کو بہت سی داخلی مشکلات کا سامنا ہے۔ادھر امریکہ میں بھی افغانستان میں امریکی موجودگي کے مخالفین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے وہ اس لئے بھی کہ جنگ افغانستان پر ہونے والا خرچہ چار کھرب ڈالر سے تجاوز کرگيا ہے جو امریکی شہریوں کے ادا کئے گئے ٹیکس سے پورا کیا گيا ہے۔بعض جنگ مخالفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ کی نا مناسب اقتصادی حالت پوری دنیا میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ حکومتوں کی مہم جوئيوں کا نتیجہ ہے۔مجموعی طورپر حکومت امریکہ کے سامنے عجیب صورت حال ہے۔اگر حکومت امریکہ سنہ دو ہزار چودہ تک افغانستان سے مکمل انخلا کرتی ہے تو آسانی کے ساتھ افغانستان پرطالبان کے مسلط ہوجانے کا اس کو ڈر ہے اور اگر افغانستان میں اپنی موجودگی جاری رکھتی ہے تو ایسی صورت میں اس کو بھاری جانی ، مالی اور سیاسی قیمت چکانی پڑے گي۔.............
/169