ابنا: آدام فرانکل گزشتہ صدارتی انتخابات کے موقع سے ہی امریکی صدر کا ساتھ دے رہے تھے۔ باراک اوباما کی تقریر کا متن وہی تیار کرتے تھے اور امریکہ کے بعض ذرائع ابلاغ ان کا نام باراک اوباما کی تقریروں کے ماسٹر مائنڈ کے طور پر لیتے تھے۔ آدام فرانکل ، سے پہلے باراک اوباما کی چند مشیر اپنے عہدوں سے مستعفے ہوچکے تھے۔ جس سے امریکی صدر کی ٹیم کا شیرازہ بکھرنے کا پتہ چلتا ہے۔ آدام فرانکل سے قبل امریکی صدر باراک اوباما کے جن مشیروں نے استعفے پیش کۓ ان میں سلامتی کے امور میں وائٹ ہاؤس کے مشیر جیمز جونز ، وزارت خزانہ کے ایک اعلی عہدیدار ہربرٹ آلیسون ، اقتصادی امور میں باراک اوباما کے خصوصی مشیر لاورنس سامرز ، وائٹ ہاؤس کے بجٹ کے انچارج پیٹر اورزاک جیسے افراد شامل ہیں۔ ان تمام افراد نے اوباما حکومت پر کی جانے والی تنقید میں پیدا شدہ شدت کے بعد خارجی پالیسی اور اقتصادی میدان میں اس حکومت کی ناکامی کے پیش نظ اپنے اپنے عہدوں سے استعفی دے دیا۔ امریکی صدر کے سنیئر مشیر آدام فرانکل کے استعفے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اوباما حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ان مقبولیت کا گراف ہر روز گرتا جارہا ہے۔ امریکہ میں ہونے والے تازہ ترین سروے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہےکہ امریکی عوام کی اکثریت اوباما حکومت کی کارکردگی سے خوش نہیں ہے۔ گیلٹ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے کۓ جانے والے سروے کے نتائج کے مطابق اس سروے میں حصہ لینے والے افراد کی اکثریت نے باراک اوباما کو ملک کی اقتصادی مشکلات کا سبب قرار دیا ہے۔ اس سروے میں شرکت کرنے والے ترپن فیصد افراد نے کہا ہے کہ امریکہ کی بعض مشکلات کا سبب باراک اوباما کی پالیسیاں ہیں۔ رواں سال امریکی حکومت کے بجٹ کا خسارہ ایک ٹریلین اور چار سو اسی ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے جو کہ اس ملک کی جی ڈی پی کا تقریبا دس فیصد ہے۔ عراق اور افغانستان کی جنگوں کے جاری رہنے کی وجہ سے بھی امریکی معیشت پر ایک شدید ضرب ہے۔ سنہ دو ہزار سے لے کر اب تک امریکہ میں ساٹھ لاکھ سے زیادہ افراد بے روز گار ہوچکے ہیں اور بے روزگاری کی شرح نو فیصد سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔ امریکہ کی بڑی بڑی کمپنیاں مالی منافع کے حصول اور دیوالیہ ہونے سے بچنے کے لۓ افرادی قوت میں کمی لانے پر مجبور ہیں۔ اور اس سے بھی اس ملک میں بے روز گاری کی بڑھتی ہوئی شرح کا پتہ چلتا ہے۔ اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ حالیہ دس برسوں کے دوران امریکہ کے ایک فیصد عوام کی آمدنی میں اٹھارہ فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ مزدوروں کی آمدنی میں بارہ فیصد تک کمی آئي ہے۔ امریکہ میں ان حالات کے شکار بہت سے افراد نے اپنے ملک کی اقتصادی پالیسیوں اور اپنے ملک کے سرمایہ دارارنہ نظام میں موجود بدعنوانی کے خلاف اپنے احتجاج میں شدت پیدا کردی ہے اور ان کا ایک گروہ دو ہفتوں سے نیویارک میں مظاہرے کررہے ہیں اور پولیس کی جانب سے ان مظاہروں کو سختی کے ساتھ کچلا جارہا ہے۔ .........../169
2 اکتوبر 2011 - 20:30
News ID: 269459
امریکی صدر باراک اوباما کی مشکلات میں اضافے اور صدارتی انتخابات کا وقت قریب آنے کے موقع پر ان کے ایک سنیئر مشیر آدام فرانکل نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔