ابنا: تحریک اتنفاضہ فلسطین کی حمایت میں ہونےوالی کانفرنس کااہتمام ، اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کی جانب سےکیاگیاہے، اس میں سترسےزیادہ فلسطینی وفود، نیزعلماء،وسیاسی وعلمی شخصیات سمیت فلسطینی رہنمابھی شرکت کریں گے۔تحریک انتفاضہ کی حمایت میں اب تک مختلف حساس موقعوں پر چار کانفرنسیں ہوچکی ہيں۔ پہلی کانفرنس اکتوبرانیس سواکانوےمیں میڈرڈ کانفرنس کےموقع پرہوئي ، دوسری اورتیسری عالمی کانفرنس مئی دوہزارایک اوردوہزارچھ میں منعقدہوئی اورچوتھی کانفرنس دوہزارنوميں غزہ پرصہیونی ریاست کےحملےکےوقت ہوئي اورپانچويں کانفرنس ایسےعالم میں ہونے جارہی ہےکہ جب فلسطین اورمشرق وسطی میں اہم تبدیلیاں رونماہورہی ہیں۔فلسطین میں نام نہاد امن مذاکرات تعطل کاشکارہوگئےہيں فلسطینی انتظامیہ کےصدرمحمودعباس کی جانب سے خودمختارفلسطینی مملکت کےقیام کی درخواست اقوام متحدہ میں زیرغورہے اورابھی تک اس کاانجام سامنےنہيں آیاہے۔صہیونی ریاست ایک طرف فلسطینی زمینوں پرقبضہ جاری رکھےہوئےہے اورفلسطینی عوام کےخلاف کسی بھی طرح کی جارحیت کےلئےصہیونی کالونیوں کےباشندوں کوکھلی چھوٹ دےرکھی ہےاورفلسطینیوں پرمذاکرات کی میز پرآنےکےلئےدباؤ بھی ڈال رہی ہےتاکہ ان سےمزیدمراعات حاصل کرسکے۔اوراس کےساتھ ہی غزہ پر صہیونی فوجیوں کےحملےبھی جاری ہیں۔ان سب کےباوجود غاصب صہیونیوں اور امریکہ کےنمائشی منصوبوں کامقابلہ کرنےکےلئےفلسطینی استقامت اور جہادی گروہوں کاعزم روزبروزمضبوط ہوتاجارہاہے۔شمالی افریقہ اورمشرق وسطی کےعلاقےمیں شروع ہونے والی تحریک جس نےاب تک مصر، تیونس ، اورلیبیا کےڈکٹیٹروں کی بساط لپیٹ دی ہے فلسطینی مجاہدین میں نئی امنگیں پیداکردی ہیں۔بالخصوص صہیونی ریاست کےسب سےبڑےحامی مصری ڈکٹیٹرکی سرنگونی نےفلسطینیوں کےاندراپنےحقوق کےحصول کےعزم کومزیدمضبوط بنادیاہے۔اسلامی جمہوریہ ایران، فلسطینیوں کی حمایت کی اپنی بنیادی پالیسی کےتناظرمیں صہیونی ریاست کی جارحیتوں کامقابلہ کرنےکےلئےہمیشہ مسلمان قوموں کےاتحاد کی ضرورت پرزوردیاہے اوراس سلسلےمیں اسلامی ملکوں کےدرمیان ہمفکری اوریکجہتی پیداکرنےکےلئےکسی بھی کوشش سےدریغ نہيں کیاہے۔تہران میں انتفاضہ فلسطین کی حمایت میں ہونےوالی پانچویں عالمی کانفرنس کامقصد، فلسطین اوربیت المقدس کی آزادی اورآوارہ وطن فلسطینیوں کی وطن واپسی سمیت ملت فلسطین کےاہداف کےحصول کےلئےدنیاکی آزاد قوموں اورامت مسلمہ کےوسائل اورتوانائيوں کوبروئےکارلانےکےلئےمنعقدہورہی ہے۔یہ دو روزہ کانفرنس فلسطینی نوجوان محمودالدورہ کی شہادت کی برسی کےموقع پرہونےجارہی ہے جس نےصہیونی فوجی کی گولیوں کانشانہ بن کراپنےباپ کی آغوش میں دم توڑدیااور فلسطینی مجاہدین کےلئےآئیڈیل بن گیا۔اس پانچویں عالمی کانفرنس کااصلی نعرہ ہے؛ فلسطین فلسطیوں کاوطن ہے۔...........
/169