ابنا: پروفیسر ماہر سلوم نے پریس ٹی وی کو دئے گئے اپنے انٹرویو میں سعودی عرب میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بارے میں کہا کہ سعودی عرب کے عوام مظاہروں کے ذریعہ سعودی حکام کو جمہوریت پسندی کا پیغام دینا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں مظاہروں کا جاری رہنا اس ملک کے سیاسی و اقتصادی حالات سے مربوط ہے اور جمہوریت پسندی کی تحریک کے سلسلے میں ملک کے کم آمدنی والے لوگوں کا رد عمل ہے۔ماہر سلوم نے کہا کہ سعودی عرب کے تیل کے ذخائر لیبیا کے تیل کے ذخائر سے دگنے ہیں اور اسی وجہ سے تیل سے ہونے والی سعودی عرب کی آمدنی قابل توجہ ہے لیکن اس آمدنی سے سعودی عرب کے عوام کی اقتصادی حالت کو بہتر نہیں کیا گيا ہے اور یہی امر سعودی عرب میں ہونے والے مظاہروں کی ایک وجہ ہے۔مصر اور تیونس میں عوامی انقلاب کی کامیابی اور مشرق وسطی کے دیگر عرب ممالک میں عوامی تحریکیں شروع ہونے کے بعد سعودی حکام اپنے یہاں انقلاب رونما ہونے کے ڈر سے ہر طرح کے مظاہروں اور اجتماعات کو سختی سے کچل رہے ہیں۔
............
/169