12 ستمبر 2011 - 19:30

يمن کے ڈکٹيٹر عبداللہ صالح نے جو سعودي عرب ميں موجود ہے، ايک بار پھرخليج فارس تعاون کونسل کے فارمولے کي موافقت کا اعلان کيا ہے جس کو انقلابيوں نے وقت کشي کي پاليسي قرار ديتے ہوئے مسترد کرديا ہے.

ابنا: يمن کے ڈکٹيٹر علي عبداللہ صالح نے جو سعودي عرب ميں پناہ لئے ہوئے ہے ملک کو سياسي بحران سے نکالنے کے لئے خليج فارس تعاون کونسل کے امن فارمولے کو قبول کرتے ہوئے اپنےنائبين کو يہ اختيارات دے دئے ہيں کہ وہ انتقال اقتدار کے سلسلے ميں مخالفين سے مذاکرات کريں - عبداللہ صالح کے جانشين عبدربہ منصور ہادي کو عبداللہ صالح کي نيابت ميں اقتدار کي پرامن منتقلي کے بارے ميں خليج فارس تعاون کونسل کے امن فارمولے پر دستخط کرکے ملک ميں علاقائي اور عالمي مبصرين کي موجودگي ميں قبل از وقت صدارتي انتخابات کرانے کا راستہ ہموارکرنے کا اختيار حاصل ہے. عبداللہ صالح ابھي تک ، انتقال اقتدار اور قبل از وقت صدارتي انتخابات کرائے جانے پرمبني خليج فارس تعاون کونسل کے امن فارمولے کي مخالفت کرتا رہا ہے ليکن يمن ميں عوام کے وسيع مظاہروں کے دوبارہ شروع ہوجانے کے بعد اور اقتدار سے ہٹانے کے لئے يمني ڈکٹيٹر پر دباؤ ڈالنے کے لئے ايک خصوصي کميٹي کي تشکيل ہوتے ہي، عبداللہ صالح نے اعلان کرديا ہے کہ وہ اقتدار کي پرامن منتقلي کے لئےتيار ہے.

اس کے جواب ميں يمن کے انقلابيوں نے اعلان کيا ہے کہ صالح کي حکومت کے ساتھ کسي بھي طرح کي بات چيت کا مطلب اس حکومت کو قانوني طور پرتسليم کرنا ہے اور جس گروہ نے بھي موجودہ حکومت سے بات چيت کي وہ انقلابيوں کا نمائندہ گروہ نہيں کہلائے گا- اس درميان يمن کے انقلابي نوجوانوں کي تنظيم نے سعودي عرب کے فرمانروا عبداللہ بن عبدالعزير کا پتلہ نذر آتش کرکے رياض اور ديگر عرب دارالحکومتوں کو يہ واضح پيغام ديا ہے کہ عرب ملکوں کي ہر قسم کي مداخلت ، عبداللہ صالح کے لئے ان کي طرف سے کي جانےوالي ہر طرح کي پشتپناہي اور خليج فارس تعاون کونسل کي طرف سے يمني انقلاب کو ناکام بنائے جانے کي کوشش کي وہ مخالفت کرتے ہيں.

يمني انقلابيوں نے اعلان کيا ہے کہ عبداللہ صالح اس فارمولے کے ذريعےاپني حکومت کے حق ميں وقت کشي کرنا چاہتا ہے - يمني انقلابيوں کي صف ميں شامل ہونےوالے فوجي جنرل محسن الاحمر نے بھي کہا کہ حکومت ميں باقي رہنے کي يمني ڈکٹيٹر کي کوشش لاحاصل ہے اور ہم ہرگز اس بات کي اجازت نہيں ديں گے کہ حکومت کي باگ ڈور صالح اور اس کے قريبي ساتھيوں کے ہاتھوں ميں جائے.........

/169