ابنا: اسي کے ساتھ صنعا ميں ڈکٹيٹر عبداللہ صالح کے جانشين، منصور ہادي کي صدارت ميں ايک ميٹنگ ميں اقتدار کي منتقلي کے لئے خليج فارس تعاون کونسل کے مجوزہ فارمولے کا جائزہ ليا گيا -
يمن کے تعز شہر ميں صدارتي گارڈ اور مسلح افراد کے درميان ہونے والي جھڑپ ميں بہت سے لوگ زخمي ہو گئے ہيں - صنعا سے موصولہ خبروں کے مطابق يمن کي صدارتي گارڈ نے اس جھڑپ ميں بھاري اسلحہ استعمال کيا اور شہر کے کئ علاقوں سے دھماکوں کي بھي آوازيں سني گئيں - در ايں اثنا جعار نامي گاؤں کي ايک مسجد ، يمني فوج کے فضائي حملے کا شکار ہو گئ ہے - ايک مقامي عہدے دار نے بتايا ہے کہ مسجد پر القاعدہ کا کنٹرول تھا اور فوج نے دو بار اس مسجدپر حملہ کيا جس سے دس لوگ مارے گئے اور پانچ ديگر زخمي ہو گئے -
با خبر ذرائع نے اسي طرح ابين صوبے کے ايک اسپتال پر بھي يمني فوج کے ہوائي حملے کي اطلاع دي ہے جس ميں دو لوگ ہلاک اور دو زخمي ہو گئے -
يہ حملے ايسي صورت ميں ہو رہے ہيں کہ جب يمن کي بر سر اقتدار پارٹي کے ذرائع نے بتايا ہے کہ عبد اللہ صالح کے حکم سے صنعا ميں ڈکٹيٹر کے نائب عبد ربہ منصور ہادي کي صدارت ميں ايک اجلاس ہوا ہے- خبر کے مطابق اجلاس کا ايجنڈا خليج فارس تعاون کونسل کا يہ فارمولا تھا کہ عبد اللہ صالح اپنے تمام اختيارات اپنے نائب کے حوالے کردے اور نوے دن کے اندرس انتخابات کرائے جائيں، جبکہ مخالف جماعتوں کو قومي اتحاد کي حکومت کي تشکيل کي ذمہ داري سونپي جائے اور ايک فوجي کميٹي ، فوج کي تعمير نو کي نگراني کرے -
يمن ميں حکومت مخالف جماعتوں نے اجلاس کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کيا ہے کہ خليج فارس تعاون کونسل کي تجويز ، يمن ميں موجودہ بحران کے حل سے زيادہ عبد اللہ صالح کو اقتدار ميں باقي رکھنے کے لئے ہے -
يمن ميں جنوري کے اواخر سے عبد اللہ صالح کي تينتيس سالہ حکومت کے خلاف عوامي انقلاب شروع ہوا اور مظاہرين بغير کسي شرط کے ڈکٹيٹر کے اقتدارکے خاتمےکے خواہاں ہيں تاہم عبد اللہ صالح شديد زخمي ہونے اور ملک سے بھاگ جانے کے باوجود ، اقتدار سے ہٹنے پر تيار نہيں ہے -
.............
/169