3 ستمبر 2011 - 19:30

بحرین کے مختلف علاقوں میں عوام نے ایک بار پھر حکومت کے خلاف مظاہرے کیے ہیں۔

ابنا: العالم ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق بحرین کے عوام نے گزشتہ رات آل خلیفہ حکومت کے تشدد آمیز اقدامات خاص طور پر بھوک ہڑتال کرنے والے قیدیوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کے خلاف ملک کے مختلف علاقوں میں مظاہرے کیے۔ مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اقتدار سے اس کی علیحدگي کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب انسانی حقوق کے حامی ڈاکٹروں کی تنظیم نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہےکہ بحرین کی جیلوں میں بھوک ہڑتال کرنے والوں کی حالت انتہائي خراب ہے۔ واضح رہے کہ بحرین کی جیلوں میں قید بہت سے سیاسی کارکنوں نے آل خلیفہ حکومت کے مظالم کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے جبکہ جیلوں میں قید ڈاکٹروں نے بھی بھوک ہڑتال کر رکھی ہے۔ ادھر بحرین کے حریت پسندوں کی تحریک کے سیکرٹری جنرل سعید شہابی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ آئندہ ہفتوں کے دوران اس ملک میں سعودی عرب کی مداخلت اور آل خلیفہ حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ لندن میں مقیم سعید شہابی نے احتجاجی مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز کے شیخ حمد بن عیسی آل خلیفہ کے جھوٹے وعدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بادشاہ کی بات کے برخلاف عوام پر تشدد کے ان کے احکامات پر عمل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آل خلیفہ کی ڈکٹیٹر حکومت کے خاتمے تک بحرین کے انقلابی اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔ دریں اثنا آل خلیفہ حکومت نے ایک سرکاری کالج کے انتالیس ملازمین کو ملازمت سے برخاست کر دیا ہے ان افراد پر احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے کا الزام لگایا گيا ہے جبکہ بعض ملازمین کو مظاہروں میں شرکت پر ابھارنے کا الزام لگا کر معطل کر دیا گيا ہے۔خلیج فارس کے ساحلی عرب ممالک کے علما کی انجمن نے ایک بیان میں بحرین کے عوام کو کچلنے کے آل خلیفہ اور آل سعود کے وحشیانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے مسلمانان عالم سے اپیل کی ہے کہ وہ بحرین کے مظلوم عوام کی مدد کریں۔دوسری جانب آل خلیفہ حکومت نے بحرین کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے اور عوامی تحریک کو کچلنے کے لیے کئي ہزار پاکستانی اور اردنی زرخریدوں کو نوکری اور بحرین کی شہریت دی ہے۔آل خلیفہ حکومت نے ملک کے شیعوں کو اقلیت میں کرنے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے اردن کے مزید چار سو افراد کو بحرین کی شہریت دی ہے۔ یورو نیوز نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ بحرین کی نصف سے زائد آبادی غیر بحرینی اہل سنت پر مشتمل ہے کہ جو بھاری رقمیں لے کر بحرین آتے ہیں تاکہ یہاں کے شیعوں کی آبادی اقلیت میں آ جائے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جن غیرملکی افراد کو بحرین کی شہریت دی جاتی ہے ان میں سے اکثر فوجی ہیں جو آل خلیفہ حکومت کے خلاف بحرین کے عوامی انقلاب اور تحریک کے دور میں سعودی عرب پاکستان اور اردن سے بحرین آئے ہیں اور اس وقت وہ بھاری تنخواہیں وصول کرنے کے ساتھ ساتھ سکیورٹی فورس میں اعلی عہدوں پر تعینات ہیں۔ آل خلیفہ حکومت کا منصوبہ ہے کہ دو ہزار پچاس تک ملک میں اہل سنت کی آبادی اسی فیصد تک پہنچ جائے اور شیعہ اس علاقے میں ایک کمزور اقلیت میں بدل جائیں۔ مسلمانوں کی جانب سے دیے جانے والے انتباہ کے باوجود پاکستان نے دس ہزار ڈالر تنخواہ فی فوجی کے حساب سے تین سو فوجی آل خلیفہ حکومت کے حوالے کیے ہیں تاکہ وہ سعودی عرب کے زرخرید فوجیوں کے ساتھ مل کر بحرین کی عوامی تحریک کو کچل سکیں۔............. /169