ابنا: سرحد پار سے آنے والے عسکریت پسند باجوڑ ایجنسی سے 20 نوجوانوں کو اغوا کر کے افغانستان لے گئے۔ پاک افغان سرحد پر باجوڑ کی تحصیل ماموند کے نوجوان گاؤں سے باہر عید کی خوشیاں منانے جمع تھے کہ سرحد پار سے آنیوالے عسکریت پسند انہیں اغوا کر کے لے گئے۔ اغواء کئے گئے نوجوانوں کا تعلق تحصیل ماموند کے مختلف دیہات سے ہے۔ مغویوں کی بازیابی کیلئے ماموند قبائل کا گرینڈ جرگہ جاری ہے، تاہم ابھی تک کسی گروپ نے اغواء کی ذمہ داری قبول کی ہے اور نہ ہی کوئی مطالبہ سامنے آیا ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے افغانستان کے وزیر داخلہ کے نام پیغام میں کہا ہے کہ وہ مغویوں کی رہائی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ وزیر داخلہ نے ایف سی کے آئی جی کو بھی نوجوانوں کی رہائی کے لیے کوششیں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ادھر ریاستی اور سرحدی امور کے وفاقی وزیر انجینئر شوکت اللہ نے افغانستان میں اغواء پاکستانی بچوں کی بازیابی کیلئے جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے، وفاقی وزیر شوکت اللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستانی بچوں کا افغانستان میں اغواء شدید مذمت کے قابل ہے اور بچوں کا ایسا اغواء پختون روایات کے منافی ہے، انہوں نے کہا کہ ان بچوں کو کی بازیابی کیلئے جرگہ تشکیل دیا جائے گا اور امید ہے کہ مغوی بچوں کو جلد بحفاظت واپس لایا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔
/110