ابنا: پاکستان میں نمائنده ولی فقیه علامہ ساجد علی نقوی نے اپنے پیغام میں کہا ہے:
عید کے موقع پر خداتعالی کی عبودیت اور اس کی نعمات کا شکر ادا کیا جاتا ہے۔ خدا کی اطاعت اور عبادات کے بعد سرخروئی کا اظہار کیا جاتا ہے اورایسے امور سے مکمل پرہیز کیا جاتا ہے جنہیں شریعت نے حرام قرار دیا ہے۔ احترام آدمیت اور انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے کہ خوشی و مسرت کے جائز ذرائع سے استفادہ کیا جائے اور ایسا انداز اختیار نہ کیا جائے جس سے غریب' پسماندہ'غم زدہ اور پریشان حال بھائیوں کو تکلیف' محرومی اور دکھ کا احساس ہو۔
عید کے موقع پر ہمیں برائیوں اور منکرات سے بچنا بھی بہت ضروری ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ملک میں عادلانہ نظام کے قیام' انسانی حقوق کی بحالی اور احترام آدمیت کے لئے جدوجہد کریں۔ بطور مسلم ہماری ذمہ داری ہے کہ اس عید پر عہد کریں کہ ہم پاکستان کو ایسا مثالی عادلانہ نظام فراہم کریں گے جس طرح امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے اپنے سنہری اور تاریخی دور حکومت میں دیا تھا۔ مالک اشتر کے نام ہدایات کی روشنی میں ایسا نظام مہیا کیا کہ جس سے ہر شخص کو اس کا حق ملے اور احترام آدمیت کا تصور قائم ہو گذشتہ سال میں ہمارے کتنے پیارے ہم سے جدا ہوئے۔ کتنے بے گناہوں کے خون سے پاکستان کی سرزمین رنگین ہوئی۔ یقینا وہ شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے لیکن ان کی بے گناہی اور ان کا پاک خون ان پر قرض ہے جن کی غفلت سے اتنی قیمتی جانیں خون میں نہلا دی گئیں۔ ہمیں عید کی خوشیوں میں شہداء اور ان کے خانوادوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے ۔ اس کے ساتھ ملک کے دیگر محروم طبقات اور غرباء کو بھی اپنی خوشیوں میں شامل رکھنا چاہیے اور ان کے مسائل کے حل کے لئے اپنی توانائیاں صرف کرنا چاہیں۔ ضرورت مندوں اور معاشرے کے پسے ہوئے لوگوں کو نظر انداز کرنے سے عید مکمل نہیں ہوسکتی۔ عید کا دن ہمیں اتحاد جیسے قرآنی اور نبوی فریضے کی طرف بھی رہنمائی کرتا ہے جس د ن تمام امت مسلمہ بلا تفریق مسلک و فرقہ عید کی خوشیاں مناتی ہے اور مسلمان ایک دوسرے کے گلے مل کر مبارک باد دیتے ہیں۔ خوشی کا یہ موقع وحدت کا ایک عظیم مظاہرہ بھی ہے۔ در اصل عید کے موقع پر مبارک باد کے مستحق ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اتحاد جیسے عظیم فریضے کے لئے کام کیا اور قربانیاں دیں۔ ہمیں اس اتحاد کو آئندہ عید تک اسی جوش و جذبے اور خلوص و ولولے کے ساتھ جاری رکھنا ہوگا تاکہ ہم اسلامی طبقات میں اتحاد پیدا کرکے معاشرے کو مسائل و جرائم سے پاک کرسکیں۔
پاکستان کا المیہ ہے کہ یہاں اگرچہ عید کاسورج تو ہرسال اپنی روایت کے مطابق طلوع ہوتا ہے لیکن حقیقی عید کا کلچر ابھی تک اجاگر نہیں ہو سکا اور ہم نے ابھی تک اصلی آزادی اور اصلی عید کا لطف نہیں اٹھایا ہر سال کی طرح حالیہ عید پر بھی ہمیں غربت' جہالت' معاشرتی اور تعلیمی مسائل' مختلف امراض' اشیائے ضروریہ کا بحران' جرائم ' قتل و غارت گری' احساس عدم تحفظ اور امن و امان کے دیگر سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ مملکت اور ریاست کی اصل بنیاد یعنی عوام کو پرسکون زندگی اور امن و امان کی فراہمی کا تصور دور دور تک موجود نہیں ہے' ہر شعبہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے' عام آدمی بھی کرپشن کی زنجیروں میں اس قدر جکڑا جاچکا ہے جس سے نکلنا ممکن نہیں۔تکلیف دہ امر یہ ہے کہ جمہوری حکومتیں ان مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا نہیں کرپارہی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110