ابنا: غزہ کے لۓ امدادی سامان لے جانے والے افریقی کاروان کے انچارج شیخ ولید السعدی نے پریس ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوۓ مزید کہا کہ اس کاروان نے کامیابی کے ساتھ غزہ کا محاصرہ توڑا اور اس علاقے میں داخل ہوا۔السعدی نے مزید کہا کہ اس کاروان کے بیس ارکان اور سوڈان سے ان کے ساتھ ملنے والی سولہ رکنی ٹیم کا اس بات پر ایمان ہے کہ خدا تعالی کے فضل و کرم سے ان چھتیس افراد کی انسان دوستی پر مبنی امداد غزہ کے عوام تک پہنچ سکی ہے۔
دوسری جانب انسان دوستی پر مبنی ایک اور قافلہ بھی آج غزہ پٹی پہنچ رہا ہے ۔ غزہ پٹی کے محاصرے سے مقابلے کی عوامی کمیٹی کے ترجمان علی النزلی نے کہا ہے کہ تبسم پانچ نامی کاروان غزہ پٹی کے محاصرہ شدہ لوگوں کے لۓ امدادی سامان لے کر آج رفح پاس سے غزہ پٹی میں داخل ہو رہا ہے۔ النزلی نے مزید کہا کہ یہ کاروان یورپی اور افریقی ممالک کے کارکنوں پر مشتمل ہے۔ جو پانچ برسوں سے انسان دوستی پر مبنی امداد غزہ پٹی کے فلسطینیوں تک پہنچا رہے ہیں۔ یہ کاروان ادویات ، خشک دودھ اور میڈیکل کی اشیاء پر مبنی امداد غزہ پٹی تک لے کر جارہے ہیں۔
ادھر مصر نے اپنے سرحدی علاقے میں سرنگیں تباہ کرنے کے ہر طرح کے منصوبے کی تردید کی ہے۔ رام اللہ میں مصر کے سفیر یاسر عثمان نے کہا ہے کہ ان خبروں اور رپورٹوں میں کوئي صداقت نہیں ہے جن میں کہا گيا ہے کہ مصر کی فوج نے غزہ پٹی سے ملنے والے سرحدی علاقے میں موجود سرنگوں کو تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ عثمان نے غزہ کے باشندوں کے لۓ ان سرنگوں کی اہمیت کے بارے میں کہا کہ یہ سرنگیں غزہ پٹی کے علاقے میں اشیاۓ خورد و نوش اور انسان دوستی پر مبنی امداد پہنچانے کا اصل ذریعہ ہیں۔
عثمان نے مزید کہا کہ مصر نے غزہ کے باشندوں کی مشکلات کم کرنے کے مقصد کے پیش نظر انسان دوستانہ امداد کے کسی بھی ذریعے کو تباہ کرنے کے کام میں نہ تو شرکت کی ہے اور نہ ہی کرے گا۔ .............
/169