ابنا: شب قدر کی اہمیت اور اس کی برکات کو بیان کرتے ہوئے اھل لغت اور اصطلاح کے نظریہ کو بھی بیان کیا : قدر لغت میں اندازہ اور اندازہ گیری کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔
تقدیر کے معنی بھی اندازہ گیری اور معین کرنے کے ہیں۔ اصطلاح میں قدر جھان کی خصوصیت اور ہر اس چیز کے وجود کو کہ اس کی خلقت کیسے ہوئی ہے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
دوسرے جملوں میں اندازہ و ہر چیز کے وجود کو مشخص کرنے کو قدر کہا جاتا ہے۔
باقری جوراسی نے فرمایا : حکمت الھی کی بناء پر اس نظام خلقت میں ہر چیز ایک خاص اندازہ رکھتی ہے اور کوئی چیز بھی بغیر حساب و کتاب کے نہیں ہے بلکہ یہ جھان قانون ریاضی کی بنیاد پر منظم ہے اور حساب و کتاب رکھتی ہے۔اور ماضی حال مستقبل آپس میں ارتباط رکھتے ہیں۔
جناب شھید مطھری قدر کی تعریف کو یوں بیان کرتے ہیں: قدر کے معنی اندازہ اور معین کے ہیں۔
اس جھان میں جتنے بھی حادثات اور واقعات رونما ہوتے ہیں انکی مقدار جگہ اور وقت معین ہے یہ سب خدا کی قدرت سے ہے۔
خدا وند عالم کا ارشاد ہے: {والذی قدّر فھدی} اعلی/3
جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ تقدیر لکھنے والا اور ھدایت کرنے والا خدا ہے۔
چونکہ انسان وہ مخلوق ہے جو ارادہ اور اختیار رکھتی ہے۔لہذا سعادت اور شقاوت کے راستہ کا انتخاب بھی اسی کے ارادہ و اختیار پر منحصر ہے۔اسی لۓ شب قدر میں انسان کے سال بھر کے آیندہ کے اعمال کو دیکھتے ہوۓ اس کی تقدیر لکھی جاتی ہے۔
شب قدر ماہ رمضان کے آخری ایام کی راتوں میں سے ایک رات ہے۔
روایتوں کے مطابق شب قدر٬ انیسویں یا اکیسویں یا شب تئیسویں ماہ رمضان ہے ۔ اور اس رات کی بہت فضیلت ہے کیونکہ اس رات میں قرآن کریم نازل ہوا ہے۔
شب قدر میں انسان کی نیکی٬ برائی٬ ولادت٬ موت٬ رزق٬ حج٬ اطاعت٬ گناہ٬ خلاصہ یہ کہ جتنے بھی افعال اور واقعات اس سال میں اس کے اختیار سے انجام پائینگے وہ سب اسکی قسمت میں لکھ دیئے جاتے ہیں۔( کافی٬ ج 4 /ص 157 )
قدر کی رات ہر سال اور ہمیشہ آتی ہے اس رات میں عبادت کی فضیلت بیشمار ہے اس رات کو عبادت اور توبہ استغفار کی حالت میں گزارنا٬ سال بھر کی اچھی تقدیر لکھے جانے میں موٴثر ہے۔
اس رات میں٬ آیندہ سال کے تمام امور٬ امام زمانہ کی خدمت میں پیش کیۓ جاتے ہیں اور وہ اپنی و دوسروں کی تقدیر سے با خبر ہوتے ہیں۔
انہوں نے حدیث بیان کرتے ہوئے کہا : امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:( انہ ینزل فی لیلة القدر الی ولی الامر تفسیر سنةً سنةً یو مر فی امر نفسہ بکذا و کذا و فی امر الناس بکذا و کذا۔)
شب قدر میں ولی امر ( امام زمانہ) کی خدمت میں سال بھر کے کاموں کی تفصیل پیش ہوتی ہیں وہ اپنے اور دوسرے لوگوں کے امور میں حکم دینے پر ما مور ہوتےہیں۔
امام باقر علیہ السلام اس آیہ " انّا انزلناہ فی لیلة مبارکة" کے معنی کے جواب میں فرماتے ہیں۔
شب قدر وہ رات ہے جو ہر سال ماہ رمضان کی آخری تاریخوں میں اجاگر ہوتی ہے یہ وہ شب ہے جس میں نہ صرف قرآن نازل ہوا ہے بلکہ خدا وند عالم نے اس رات کے لۓ فرمایا ہے
۔{ فیھا یفرق کل امر حکیم...} اس قدر کی رات میں ہر وہ حادثہ اور امور جو سال بھر میں ظاہر ہوگا جیسے نیکی برائی اطاعت اور معصیت یا وہ اولاد جسکو پیدا ہونا ہے یا وہ موت جو آئیگی یا وہ رزق جو ملے گا سب کے سب تقدیر میں لکھ دیئے جاتے ہیں۔
اسی بناء پر قرآن کریم میں شب قدر اور تقدیر الھی کی جانب خاص توجہ پائی جاتی ہے کہ جو خصو صیت جھان اور انسان کے رابطہ کو خدا سے بیان کرتی ہے اگر ہر شخص اس رابطہ پر عقیدہ رکھے اور اسی کے مطابق حرکت کرے تو اسکی سال بھر کی تقدیر لکھے جانے میں زیادہ موٴثر ہوگی۔
روایتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ شب قدر پیغمبراکرم(ص) کی رسالت کے دوران سے اختصاص نہیں رکھتی ہے بلکہ گذشتہ زمانہ میں بھی اسکا وجود تھا
علامہ مجلسی امام محمد تقی(ع) سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا ہے:(...لقد خلق اللہ تعالی لیلةاقدر اول ما خلق الدنیا ولقد خلق فیھا اول نبی یکون واول وصی یکون...) خداوند نے شب قدر کو اس دنیا کی خلقت کے آغاز میں خلق کیا ہے اور اسی شب میں اس نے اپنے پہلے نبی اور وصی کو قرار دیا ہے.
دوسری جانب رسول اکرم(ص) کا ارشاد ہے(ان اللہ وھب لامتی لیلة القدر لم یعطھا من کان قبلہم ) خدوند عالم نے میری امّت کو شب قدر کی نعمت سے نوزا ہے جبکہ پہلے والی امّتوں کو یہ نعمت عطا نہیں ہوئ تھی ۔
ان دونوں روایتوں کو جمع کریں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ شب قدر کا وجود پہلے سے تھا لیکن اسکی فضیلتوں کو خداوند نے امّت اسلام سے مخصوص کر دیا جو پہلے والی امّتوں کو عطا نہیں ہوئ تھیں.
اس لیۓ شب قدر ایک حقیقی اور واقعی چیز ہے جس کو خداوند نے قرار دیا ہے.
سورہٴ قدر کی آیتوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہر سال میں ایک شب "قدر" کے نام سے ہے.
جس کی فضیلت ہزار ماہ سے زیادہ ہے اس شب میں اللہ کے فرشتہ بالخصوص روح الامین اللہ کے ہر فرمان اور تقدیر کو جو کہ ایک سال کے لیۓ مقّرر ہوتی ہے لیکر نازل ہوتے ہیں.
وہ احادیث جو سورہ قدر اور سورہ دخان کی شروع کی آیتوں کے سلسلہ میں وارد ہوئ ہیں ان احادیث سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ شب قدر میں اللہ کے فرشتہ ایک سال کی تقدیر کو امام زمانہ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں یہ واقعیت پہلے تھی اور آیندہ بھی رہے گی.
پیغمبر اکرم(ص) کی حیات میں اللہ کے فرشتہ تقدیر سال کو رسول اکرم(ص) کی خدمت میں پیش کرتے تھے اس بات کو سبھی نے قبول کیا ہے.
اور پیغمبر(ص) کی رحلت کے بعد بھی شب قدر کا وجود قرآن کی آیات اور روایات سے ثابت ہے.
رشیدالدین میبدی اھل سنّت کے معروف مفسر کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ شب قدر پیغمبر(ص)کے زمانہ میں تھی اور ان کے بعد ختم ہو گئ.
لیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ تمام اصحاب پیغمبر(ص)اور علماء اسلام اس بات پر اعتقاد رکھتے ہیں کہ شب قدر قیامت تک باقی ہے.
شیخ طبرسی بھی اس سلسلہ میں ابوذر غفاری سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ابوذرنے پیغمبراکرم(ص) سے سوال کیا٬ اے پیغمبراکرم(ص) کیا شب قدر اور فرشتوں کا اس شب میں نازل ہونا فقط پیغمبروں کے زمانہ میں ہے اور پیغمبروں کے بعد شب قدر کا وجود نہیں ہے؟رسول اکرم(ص) نے فرمایا: نہیں٬ بلکہ شب قدر کا وجود قیامت کے دن تک ہے.
اس بات میں شک نہیں ہے کہ شب قدر ماہ رمضان کی ایک شب ہے کیونکہ یہ بات قرآن کی آیات سے ثابت ہے خداوند کا ارشاد ہے {شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن}بقرہ185دوسری جانب ارشاد فرماتا ہے:{ انّا انزلناہ فی لیلة القدر }
لیکن یہ کہ رمضان کی کون سی شب ہے اس کے لیۓ روایات سے رجوع کرنا ضروری ہے
شیعہ اور اھل سنّت کی روایات میں شب قدر کے سلسلہ میں مختلف احتمالات دیۓ گۓ ہیں.مثلاً شب 29٬27٬23٬21٬19٬17وغیرہ.
لیکن شیعوں کے درمیان ائمہ(ع) کی روایات کی بنیاد پر شب 23٬21٬19 کا احتمال زیادہ ہے.
انہوں نے روایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : سید ابن طاووس نے کتاب اقبال الاعمال میں شب قدر کے سلسلہ سے متعدد روایتوں کو جمع کیا ہے. جنمیں مجموعی طور سے شب 23٬21٬19میں عبادت اور دعا کرنے کی بہت تاٴ کید کی گئی ہے. امام صادق(ع) سے سوال کیا گیا شب قدر کو معیّن کریں آپ نے فرمایا اسکو اکیسویں اور تئیسویں شب میں تلاش کرو. جب راوی نے چاہا امام ایک شب کو بیان کریں کہ کون سی شب٬ شب قدر ہے تو آپ نے فرمایا تمہارے لیۓ کیا مشکل ہے کہ تم دو شبوں میں سے شب قدر کو تلاش نہیں کرسکتے ہو جبکہ مختلف روایتون میں یہ بات آئی ہیکہ شب قدر رمضان کی تئیسویں شب ہے.البتہ ائمہ اطہار(ع) کے لیۓ شب قدر واضح ہے کیونکہ اس شب میں فرشتہ ان پر نازل ہوتے ہیں لیکن ائمہ(ع) کا اصرار کئ شبوں کے لیۓ صرف اس لیۓ ہے تاکہ بندہ زیادہ سے زیادہ خداکی عبادت کریں.
ان تمام باتون پر توجہ کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ شب قدر ہر سال میں ہوتی ہے اور صرف ایک بار ہوتی ہے تاریخ اور وقت کا اختلاف باعث نہیں ہوتا ہے کہ کئی شب قدر ہو
اس بنا پر روایات میں تاٴکید کی گئ ہے کہ رمضان کے آخری 10 دن یا حد اقل شب ٬19 ٬21 23 میں زیادہ سے زیادہ عبادت کی جاۓ.خود پیغمبر اکرم(ص) دھہ آخری رمضان میں اعتکاف کرتے تھے. بعض بزرگان شیعہ نے شب قدر کو درک کرنے کے لیۓ پورے سال کی راتوں کو جاگ کر عبادت میں گزارا ہے تاکہ وہ یقینی طور سے شب قدر کے ثواب کو حاصل کر سکیں بہر حال شب قدر صرف ایک شب ہے اور زیادہ احتمال یہ ہیکہ ماہ رمضان کی آخری 10 شبوں بالخصوص اکیسویں یا تییسویں شب میں سے کوئ ایک شب ہے.موٴمنین اس شب کو درک کرنے کی کوشش کریں اور راتوں کو جاگ کر عبادت میں بسر کریں
چونکہ شب قدر میں فرشتوں کے نازل ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سی بر کتیں بھی نازل ہوتی ہیں جنمیں اھم ترین سال بھر کی تقدیر کا معین ہونا ہے اسکے علاوہ فرشتوں کا جمعی طور سے نازل ہونا نورانیت اور برکت کا باعث ہوتا ہے یہ انسان کے لیۓ توبہ اور دعا کا بہت اچھا موقع ہوتا ہے اس میں انسان اپنے درجات کو خداکی بارگاہ میں بلند کرسکتا ہے اس طرح سے کہ انسان ایک شب کی عبادت سے ایک ہزار ماہ کی ارزش کو حاصل کر سکتا ہے.
اس بنا پر اگر چہ سال بھر کی تقدیر کا اعلان امام کے لیۓ شب قدر کے ایک معین اور خاص وقت میں ہوتا ہے لیکن پوری دنیا کے لوگوں کے لیۓ جو کہ افق میں اختلاف رکھتے ہیں اس کا وقت امتداد رکھتا ہے اور اسطرح سے فرشتوں کے نازل ہونے کی برکت ان لوگوں کو شامل ہوتی ہے اور انکی تقدیر بھی اسی اعتبار سے لکھی جاتی ہے یہ بات تقدیروں کے ایک خاص وقت میں حجت خدا پرنازل ہونے سے منافات نہیں رکھتی ہے.
اس لیۓ وہ لوگ جو کسی بنا پر شب قدر سے استفادہ نہیں کر سکے ہیں انکے لیۓ روایات میں ذکر ہوا ہے کہ وہ لوگ دن میں عبادت کریں کہ یہ بھی شب قدر کے مانند فضیلت رکھتا ہے اور جوبھی شب قدر کی فضیلت کو حاصل کرنا چاہتا ہے اسکو حاصل ہوتی ہے .
اسی طرح سے روایات میں وارد ہوا ہے جو ان شبوں سے استفادہ نہ کر سکے وہ عرفہ کے دن اور رات کا منتظر رہے تاکہ اپنی تقدیر کو اس دن معین کرسکے.اس بنا پر ان اوقات کا معین کرنا نہ خداکے لیۓ محدودیت کا باعث ہوتا ہے اور نہ انسان کے لیۓ