18 اگست 2011 - 19:30

پاکستان علامہ ساجد نقوی نے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ حضور اکرم ص جیسے عظیم سپہ سالار اور الہی قیادت کی زیرنگرانی اسلام کے پہلے معرکے میں جس طرح جرات و بہادری اور قربانی کی مثالیں رقم کی گئیں وہ اسلام کا اثاثہ اور سرمایہ ہیں۔

ابنا: محافظ رسالت حضرت علی علیہ السلام نے جس دلیری کے ساتھ سینہ سپر ہو کر کفار اور دشمنوں کو واصل جہنم کیا یہ جذبہ ہر مجاہد اور حریت پسند کے لیے نمونہ عمل ہے،افراد اور وسائل کی کمی کے باوجود ایمان، اعتقاد، یقین اور سچے جذبے کے ساتھ بڑی ظالم طاقتوں کو بھی شکست دی جا سکتی ہے ۔

راولپنڈی:جعفریہ پریس کی رپورٹ کے مطابق ۔ اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ مجاہدین بدر نے قلت کے باوجود جس عزم اور استقلال سے اسلام کا دفاع اور اسلام دشمن قوتوں کا مقابلہ کیا اس کی مثال غزوہ بدر سے پہلے اور بعد میں کہیں نہیں ملتی۔ قلت پر کثرت کا غلبہ پہلی مرتبہ غزوہ بدر میں دیکھنے کو ملا، جس سے رہتی دنیا تک مسلمانوں اور مجاہدین کو سبق ملا کہ وہ افراد کی قلت اور وسائل کی کمی کی وجہ سے پریشان نہ ہوں بلکہ ایمان، اعتقاد، یقین اور سچے جذبے سے کام لیں تو بڑی سے بڑی ظالم طاقت کو بھی شکست فاش دی جا سکتی ہے۔ ملک میں تاریخ کے بدترین سیلاب کی تباہ کاریوں کا مقابلہ کرنے اور متاثرہ عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے کے لئے بھی غزوہ بدر والے یقین، ایثار اور سچے جذبے کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

یوم فتح جنگ بدر کی مناسبت سے ایک افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ حضور اکرم ص جیسے عظیم سپہ سالار اور الہی قیادت کی زیرنگرانی اسلام کے پہلے معرکے میں جس طرح جرات و بہادری اور قربانی کی مثالیں رقم کی گئیں وہ اسلام کا اثاثہ اور سرمایہ ہیں۔ محافظ رسالت حضرت علی علیہ السلام نے جس دلیری کے ساتھ سینہ سپر ہو کر کفار اور دشمنوں کو واصل جہنم کیا یہ جذبہ ہر مجاہد اور حریت پسند کے لیے نمونہ عمل ہے، اس کے علاوہ شعب ابی طالب میں سختیاں اور پابندیاں برداشت کرنے کے باوجود بنو ہاشم کا اسلام کا دفاع کرنا بھی تاریخ اسلام کی روشن مثال ہے۔ علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم ایمان، یقین محکم، اسلامی جذبے اور خدا و رسول ص کی تعلیمات پر عمل کی بجائے مادی وسائل پر بھروسہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، جس سے ہم نام نہاد سپر طاقتوں کے نرغے میں آتے جا رہے ہیں۔ اگرچہ جدید ٹیکنالوجی کا حصول اور مادی وسائل سے استفادہ بھی ہماری اولین ضرورتوں میں شامل ہے، لیکن کامیابی کے لیے فقط مادیت پر یقین کرنا کسی طور درست نہیں ہمیں چاہیے کہ ہم مادی اسباب اور وسائل سے جائز اور مناسب استفادہ کرتے ہوئے اپنی طاقت اور صلاحیتوں میں اضافہ کریں اور اپنے آپ کو اس قابل بنائیں کہ ہم اسلام اور مسلمین کی حفاظت کا فریضہ انجام دے سکیں۔

جعفریہ پریس:اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے 19 رمضان المبارک یوم ضربت امیر المومنین ع،21 رمضان المبارک یوم شہادت امیر المومنین ع اور 26 اگست جمعۃ الوداع کے موقع پر یوم القدس کے جلوسوں،شبہائے قدر اور ہفتہ نزول قرآن کے پروگراموں کے روایتی شان و شوکت اور شایان شان انعقاد کے لئے ملک بھر کے عوام خاص طور اہالیان کراچی و کوئٹہ سے اپیل کی ہے کہ وہ ان جلوسوں میں انتہائی عقیدت و احترام سے بھرپور انداز میں شریک ہوں اور امن و امان کے ذمہ دار اداروں کو چاہیے کہ وہ ان مواقع پر اپنی ذمہ داریوں کو پوری تن دہی سے انجام دیتے ہوئے شرپسندوں اور امن خراب کرنے والوں پر گہری نظر رکھیں، تاکہ کسی کو ان پروگراموں میں خلل ڈالنے کا موقع نہ مل سکے۔ علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ ارض پاک کی تقدیر کے مالک و مختارعوام کے مذہبی،آئینی و قانونی حقوق اور شہری آزادیوں کا تحفظ اور ان کے جان و مال کی حفاظت ریاست اور حکومت کی بنیادی اور اولین ذمہ داری ہے۔ اب اگر اس فرض کی ادائیگی میں متعلقہ ادارے اور افراد مخلص ہوں تو کوئی وجہ نہیں کہ اس ملک کے عوام کو نہ صرف امن و سکون میسر آئے، بلکہ ملک بھی ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوسکے۔

افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے علامہ ساجد نقوی کا کہنا تھا کہ ہمارے بارہا مطالبے کے باوجود دہشگردی کے واقعات کی اعلٰی عدالتی تحقیقات کے لئے بااختیار عدالتی کمیشن کا قیام عمل میں نہیں لایا گیا، جس سے آج تک عوام کو خبر ہی نہ ہو سکی کہ ان کے پیاروں کے قاتل کون تھے؟ قاتلوں کے پشت پناہ کون تھے؟ انہیں پالنے والے کون ہیں؟ ٹارگٹ کلرز کو بے نقاب کر کے کیفر کردار تک پہنچانے میں کیا رکاوٹیں حائل اور کیا عوامل مانع ہیں؟علامہ ساجد نقوی نے اپنے اعزاز میں دیئے گئے افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے  نے کہا کہ بدقسمتی سے ایک مدت سے ملک کا گوشہ گوشہ معصوم اور بے گناہ انسانوں کے خون ناحق سے رنگین ہے۔ خاص طور پر شہر قائد میں کئی سالوں سے موت کا رقص جاری ہے۔ گذشتہ سالوں میں سانحہ عاشورا اور سانحہ چہلم امام حسین علیہ السلام سے لے کر اب تک سینکڑوں قیمتی جانیں لقمہ اجل بن چکی ہیں۔ ہمارے بارہا مطالبے کے باوجود ان واقعات کی اعلی عدالتی تحقیقات کے لئے بااختیار عدالتی کمیشن کا قیام عمل میں نہیں لایا گیا، جس سے آج تک عوام کو خبر ہی نہ ہو سکی کہ ان کے پیاروں کے قاتل کون تھے؟ قاتلوں کے پشت پناہ کون تھے؟ انہیں پالنے والے کون ہیں؟ ٹارگٹ کلرز کو بے نقاب کر کے کیفر کردار تک پہنچانے میں کیا رکاوٹیں حائل اور کیا عوامل مانع ہیں؟علامہ ساجد نقوی نے اسلامیان پاکستان پر زور دیا کہ وہ انفرادی عبادات کے ذریعہ ماہ صیام کی فیوض و برکات سمیٹنے کے ساتھ ساتھ اپنی اجتماعی ذمہ داریوں کی بجا آوری کو بھی یقینی بنائیں اور باہمی اتحاد و وحدت کو شعار بنا کر ملک دشمن عناصر اور دہشت گردوں کے خلاف متحد و یکجا ہو جائیں۔............

/169