17 اگست 2011 - 19:30

ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ امریکہ میں لوگوں کے ادا کئے گئے ٹیکس میں سے چھتیس کروڑ ڈالر افغانستان میں طالبان کو دئے گئے ہیں۔

ابنا: پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایک تحقیق کے مطابق یہ رقم افغان کمپنیوں کے ساتھ امریکی مالی معاہدوں کے ذریعہ افغانستان میں طالبان اور مقامی مجرمین کو دی گئي ہے۔ یہ تحقیق افغانستان میں نیٹو کے سابق کمانڈر ڈیوڈ پیٹریاس کی طرف سے تشکیل دئے گئے ایک خصوصی ورکنگ گروپ نے کی ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ کے زیر کمان نیٹو افواج افغانستان میں تقریبا" ایک عشرے سے جنگ میں مشغول ہیں لیکن ان کی افغان کمپنیوں اور طالبان اور مقامی مجرمین کے مابین رابطے پر کوئي نگرانی نہیں ہے اس لئے امریکہ کی طرف سے ان کمپنیوں کو جو رقم دی گئی ہے وہ طالبان کو پہنچائي جاتی ہے۔ مذکورہ ورکنگ گروپ کی تحقیقات کے مطابق یہ ثابت ہوا ہے کہ ان کمپنیوں کے ذریعہ اب تک چھتیس کروڑ ڈالر طالبان کو دئے گئے ہیں۔ یادرہے امریکہ اور بعض علاقائي ملکوں نے طالبان اور القاعدہ کو جنم دیا تھا اور ان دہشتگرد تنظیموں کوہمیشہ امریکہ کی خفیہ سیاسی اور فوجی حمایت حاصل رہی ہے ۔ان تنظیموں نے جب بھی امریکہ کو ضرورت پڑی امریکہ کے مفادات کے ئے کام کیا ہے۔  ............

/169