ابنا: انہوں نے کہاکہ بحرین کی بیدار اور ہوشیار قوم اس طرح کے فریب میں نہیں آے گی۔ عباس عمران نے العالم سے گفتگو میں کہا کہ ملت بحرین پر تشدد اور عوام کے قتل عام کے بعد آل خلیفہ نےتحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تاکہ اس طرح وہ عوام کو احتجاج سے روک سکے اور یہ ظاہر کرسکے کہ اب کوئي احتجاج نہیں ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس حربے سے راے عامہ کو گمراہ کرنا چاہتی ہے۔ عمران نے کہا کہ آل خلیفہ ان ثبوتوں وشواہد سے خوفزدہ ہے جو بحرین کے انسانی حقوق مرکز اور بین الاقوامی تنظیموں کے پاس ہیں، اسی بناپر آل خلیفہ تحقیقاتی اور مذاکراتی کمیٹیاں بنانے پر مجبور ہوئي ہے تاکہ اپنے جرائم پر پردہ ڈال سکے۔ عباس عمران نے کہا کہ آل خلیفہ کی تحقیقاتی کمیٹی بنیادی طورپر غیر قانونی ہے کیونکہ اس کمیٹی نے غیر جانبداری سے کام نہیں لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب بحرین کو شروع ہوے اب چھے ماہ ہورہےہیں اور جب تک ملت بحرین کے اھداف حاصل نہیں ہوجاتے یہ انقلاب جاری رہے گا۔............
/169