ابنا: عالمی مالیاتی فنڈ نےسبسیڈی کوبامقصدبانےکےلئےایران کےاقدام کوسراہتےہوئے ایران کی معاشی ترقی کوسن دوہزارگیارہ میں تین اعشاریہ دوفیصد قراردیاہے۔عالمی مالیاتی فنڈ نےاپنی حالیہ رپورٹ ميں جواس سے قبل کی رپورٹ کی نسبت قدرےحقیقت پسندی پرمبنی ہےاعلان کیاہےکہ اسےتوقع ہےکہ عوام کو سبسیڈی کےلئے حکومت ایران کی جانب سےخرچ کئےجانےوالےتقریباساٹھ ارب ڈالرحذف کرنےکےبعد کہ جوناخالص داخلی پیداوارکا پندرہ فیصدہے ، ایرانی معیشت کی افادیت بڑہ جائےگی ۔ماہرین کاخیال ہےکہ سرمایہ ، اورٹیکنالوجی کےساتھ ہی مفیدافرادی قوت جیسےداخلی اورخارجی عناضر معاشی ترقی کاباعث بنتےہيں۔اس کےعلاوہ برآمدات میں اضافہ جیسی تبدیلیاں بھی اقتصادی ترقی کاباعث بنتی ہيں۔ایران کی اقتصادی ترقی کےان عناصرکومدنظررکھتےہوئےکہاجاسکتاہےکہ تیل کی صنعت اوردوسری صنعت ومعدنیات نیززراعت کی پیداوارمیں اضافہ ایران کی معاشی ترقی کی بنیاد ہے۔ماہرین کاخیال ہےکہ مغرب بالخصوص امریکہ کےاقتصادی بحران کےباوجوداس سال ایران کے شیئرمارکٹ میں سترفیصدترقی اور غیرآئیل مصنوعات کی برآمدات میں بیس فیصد کی ترقی ایران کی اقتصادی ترقی واستحکام کاسب سےبڑا ثبوت ہے۔ ان تمام عناصرکےسبب ایران کی معیشت پرمغربی ممالک کی پابندیوں یا تیل کی برآمدات سےحاصل ہونےوالی غیرملکی کرنسی نیزمالیاتی پالیسیوں سےپیداہونےوالےبحران کابہت محدود اثرپڑےگا۔ امریکی حکام،تیس برسوں سےایران پرطرح طرح کی پابندیاں عائدکرکے ایران کوتنہاکرنےکی کوشش کررہےہيں جبکہ امریکہ و یورپ میں معاشی ماہرین تاکیدکرتےہیں کہ اس وقت ایران معاشی طاقت اورعلاقائی اورعالمی منڈیوں میں موجودگی کےلحاظ سے بتیس سال پہلےکی نسبت قابل موازنہ نہيں ہے بلکہ وہ مضبوط ومستحکم ہواہے۔اوراسی بناپرعالمی مالیاتی فنڈ کی نئی رپورٹ میں واضح طورپرکہاگیاہےکہ ایرانی معیشت نے کساد بازاری کوپیچھےچھوڑدیا ہے اوراس وقت ترقی وپیشرفت کےنئےمرحلےمیں داخل ہوچکاہے۔............
/169