5 اگست 2011 - 19:30

انٹر نيشنل کرائسس گروپ نے کہا ہے کہ افغانستان ميں امريکہ اور اسکے اتحاديوں کي فوجي اسٹريٹيجي ناکام ہوگئي ہے-

ابنا: افغانستان کے بارے ميں انٹرنيشنل کرائسس گروپ کي جاري کردہ تازہ رپورٹ ميں کہا گيا ہے کہ افغانستان پر قبضے کو دس سال کا عرصہ گزر جانے ، ايک لاکھ پچاس ہزارغير ملکي فوجيوں کي موجودگي اور کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود، نيٹو اور امريکہ تاحال افغانستان ميں امن و استحکام قائم نہيں کرسکے ہيں-

انٹر نيشنل کرائسس گروپ کي رپورٹ جو ايک آزاد اور غير سرکاري عالمي ادارہ ہے، اس حقيقت کي نشاندھي ہوتي ہے کہ امريکہ کي قيادت ميں افغانستان ميں موجود غير ملکي فوجي نہ صرف اس ملک ميں امن و استحکام قائم کرنے ميں ناکام رہے ہيں بلکہ، منشيات کي اسمگلنگ، منظم جرائم کے ارتکاب، عام شہريوں کے قتل عام ، افغان رہنماؤں کي ٹارگٹ کلنگ، گھرگھر تلاشي اور عام شہريوں کي گرفتاريوں ميں پيش پيش رہے ہيں- امريکي فوج کے سربراہ جنرل مائيک مولن نے بھي اعتراف کيا ہے کہ افغانستان ميں غير ملکي فوجيوں کي موجودگي کے باوجود امن و امان کي صورتحال روز بروز بد سے بدتر ہوتي جارہي ہے جو انتہائي تشويشناک ہے-

اسي تناظر ميں بين الااقوامي سطح پر جاري ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق افغانستان ميں امريکہ اور اسکے اتحاديوں کي لشکر کشي کے آغاز سے اب تک منشيات کي پيداوار ميں بيس گنا اضافہ ہوا ہے- اقوام متحدہ کے انسداد منشيات کے ادارے کے جاري کردہ اعداد وشمار کے جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ سن دوہزار ايک ميں امريکہ اور اسکے اتحاديوں کے افغانستان پر حملے کے وقت اس ملک ميں منشيات کي پيداوار ايک سو پچاسي ہزار ٹن سالانہ کے لگ بھگ تھي جو اب تين ہزار چار سو ٹن سے تجاوز کرگئي ہے-

افغانستان پر امريکہ اور اسکے اتحاديوں کے فوجي قبضے کو دس سال کا عرصہ ہوچلا ہے اور عام شہريوں کے قتل عام، غيرملکي فوج کے حملوں ميں رہائشي علاقوں کي تباہي و بربادي اور پوست کي کا شت نيز منشيات کي پيداوار ميں اضافے کے سوا کوئي اور نتيجہ برآمد نہيں ہوا ہے-

اقوام متحدہ نے اپني حاليہ رپورٹ ميں کہا ہے کہ سن دوہزار گيارہ کي پہلي شش ماہي کے دوران افغانستان ميں عام شہريوں کي ہلاکت کے واقعات ميں پندرہ في صد اضافہ ہوا ہے- اس رپورٹ کے مطابق سن دوہزار گيارہ کے پہلے چھے مہينوں کے دوران ايک ہزار چارسو باسٹھ عام شہري افغانستان ميں مارے گئے ہيں-

سن دوہزار ايک ميں افغانستان پر امريکي قبضے کے آغاز کے بعد سے افغانستان ميں تشدد اور بدامني کے واقعات ميں اضافہ ہوا ہے اور زيادہ تر عام شہري ہي غير ملکي فوجيوں کی کاروائيوں کا نشانہ بنتے چلے آرہے ہيں-.............

/169