ابنا: اس سےواضح ہوتاہےکہ مصری عوام اپنےانقلابی مقاصد کےتناظرمیں کہ جوحسنی مبارک کی حکومت کےخاتمےپرمنتج ہوااس ملک کےسیاسی میدان میں بنیادی تبدیلیوں کےخواہاں ہیں۔ اس بناپر ایسےعالم میں جب اس ملک میں حکمراں محمدحسین طنطاوی کی زیرقیادت اعلی فوجی کونسل کےسامنےعصام شرف کی نئی کابینہ حلف لےرہی تھی مصری عوام احتجاج کررہےتھے اوررپورٹوں سےپتہ چلتاہےکہ مصری عوام کااحتجاج اور دھرنا کابینہ کی تشکیل کےبعد بھی جاری رہےگا۔ اس سلسلےمیں مصری مظاہرین نےگذشتہ چند دنوں سےمصرکےالتحریراسکوائرپرفوری سیاسی اصلاحات اورفوجی کونسل کی حکومت کےخاتمےکےلئےمظاہروں کاسلسلہ جاری رکھےہوئےہيں۔ مصرکے انقلابیوں نےدھمکی دی ہےکہ احتجاج اوردھرنےکاسلسلہ اس وقت تک جاری رہےگاجب تک فوجی کونسل کی حمکرانی ختم اور ڈیموکریٹک حکومت کی تشکیل انجام نہيں پاجاتی ۔انقلابیوں کایہ بھی مطالبہ ہےکہ ڈکٹیٹرحسنی مبارک کی حکومت سےوابستہ افراد کومعزول کرکےان پرمقدمہ چلایاجائےچنانچہ قاہرہ کےالتحریراسکوائرپردھرنادینےوالوں نےفوجی کونسل کےخلاف بھی نعرےلگائےاور فوجی کونسل کےسربراہ محمدحسین طنطاوی کی برطرفی نیز سابق ڈکٹیٹرحسنی مبارک اورعوام کےقتل عام میں شریک افراد پرمقدمہ چلانےکابھی مطالبہ کیا۔ حسنی مبارک کی آمرانہ حکومت کےخاتمے کےبعداعلی فوجی کونسل نےملک کانظم ونسق اپنےہاتھ میں لےلیاہے۔ مصرکےاکثرلوگوں کاکہناہےکہ اس ملک پرحکومت کرنےوالی فوجی کونسل یہ کوشش کررہی ہےکہ مصری عوام کےانقلاب کواس کےراستےسےہٹادیاجائے۔ سابق حکام اور حسنی مبارک سےوابستہ عناصرپرمقدمہ چلانےاورانھیں سزادلانےمیں فوجی کونسل اورعصام شرف کی حکومت کالیت ولعل، مصرمیں نئی انقلابی لہراٹھنےمیں موثررہاہے۔سابق حکام بالخصوص حسنی مبارک اوراس کےبیٹوں جمال اورعلاء کےکیس کی تحقیقات میں سستی نےعوام کےاندرحکمرانوں کےسلسلےمیں عدم اعتماد پیدا کیاہے۔مصری معاشرےمیں اس طرح کےطرزفکرنے عوامی تنظیموں اورگروہوں کےدرمیان اعلی فوجی کونسل اورعصام شرف کی حکومت کےدرمیان موازنے پرمنتج ہواہے۔ ان حالات میں مصری کابینہ میں تبدیلی سےہی مصری عوام کےمطالبات پورے نہيں ہوتےجوبنیادی سیاسی تبدیلی کےخواہاں ہیں عوامی مظاہروں کاجاری رہنااسی حقیقت کاغماز ہے۔
..............
/169