اہل البیت نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق یمنی محقق نے عادل الشمیری نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے یورپ کے اس موقف پر شدید تنقید کی ہے کا "اگر علی عبداللہ صالح نے پرامن طریقے سے انتقال اقتدار کو یقینی بنایا تو یورپ یمن کے لئے اپنی امداد بحال کرے گا"۔ انھوں نے کہا کہ کہا ہے کہ کہ امریکہ، یورپ اور سعودی عرب یمن کے عوامی انقلاب کو ناکام بنانے اور منحرف کرنے کے لئے سازشیں کررہے ہیں۔انھوں نے انقلابی قوتوں کی جانب سے عبوری کونسل کی تشکیل کا خیر مقدم کیا اور کہا: انقلابی قوتوں کا یہ اقدام درست اقدام تھا لیکن واشنگٹن اور ریاض کی طرف سے یمنی نوجوانوں کی اس کونسل کو تسلیم کئے جانے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔انھوں نے کہا یمن کے انقلابی نوجوانوں نے عبوری تشکیل دی ہے لیکن انہیں بعض حکومت مخالف جماعتوں کی مخالفت کا سامنا ہے اور "اللقاء المشترک" نامی اپوزیشن الائنس نے ابھی تک اس کے سلسلے میں کوئی قطعی اعلان نہیں کیا ہے بلکہ اس اتحاد کے راہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ اس موضوع پر غور و خوض کررہے ہیں۔الشمیری نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ عبوری کونسل کی تشکیل کا کام مکمل کریں اور کسی کو بھی اس کونسل میں رکنیت سے محروم نہ کریں کیونکہ نوجوانوں کی بعض جمعیتوں کا کوئی نمائندہ نہیں ہے اور ان سے اس سلسلے میں صلاح مشورہ نہیں کیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110