15 جولائی 2011 - 19:30

امریکی وزیر خارجہ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کا ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں امریکہ اور روس کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔

ابنا: امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ اپنے مذاکرات کے اختتام پر کہا ہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان ایران کے ایٹمی مسئلے کے بارے میں اختلافات پائے جاتے ہیں اور امریکہ ترغیب اور دباؤ کی پالیسی کو جاری رکھے گا۔
روسی وزیر خارجہ سرگئي لاوروف نے امریکی صدر باراک اوباما اور وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے ساتھ مذاکرات میں تجویز پیش کی ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں قدم بہ قدم کی پالیسی اختیار کی جائے تاکہ تہران اس بارے میں سوالوں کے جواب دے سکے اور مغرب بھی مرحلہ وار پابندیوں کو ختم کر دے۔
روس کی طرف سے پیش کی گئی تجویز سے قطع نظر کہا جا سکتا ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں امریکہ اور روس کے درمیان اختلافات کی موجودگی پر مبنی ہلیری کلنٹن کا بیان ان مشکلات اور چیلنجوں کا اعتراف ہے کہ جن کا امریکہ کو ایران کے خلاف اپنی یکطرفہ پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں سامنا ہے۔ یہ چیلنج صرف روس کے بارے میں ہی نہیں بلکہ چین اور بعض یورپی اتحادیوں کے بارے میں بھی پائے جاتے ہیں۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ ایسی پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ ایران کے خلاف کوئی نئی سنجیدہ پابندیاں منظور کروا سکے اس کے ساتھ ہی ساتھ ان پابندیوں کا ایٹمی ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کے میدان میں ایران کی ترقی و پیشرفت پر کوئي اثر بھی نہیں پڑا ہے۔ اس کے باوجود امریکی حکام ایک عرصے سے ایک ہی بات کی رٹ لگائے ہوئے ہیں اور روس اور چین سمیت دوسرے ملکوں کو ڈرا دھمکا اور لالچ دے کر ایران کے خلاف پابندیاں سخت کرنے کی حمایت کرنے پر راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن امریکہ کو اس سلسلے میں شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق امریکہ کو نہ صرف ایران کے ایٹمی پروگرام بلکہ افغانستان اور عراق میں اور اپنی مشرق وسطی کی پالیسیوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس بنا پر وائٹ ہاؤس کے حکام اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرا کر اپنی پالیسیوں کی ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈالنا چاہتے ہیں۔ یہ ایسے حالات میں ہے کہ ایران نے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے ساتھ ہر قسم کا بھرپور تعاون کیا ہے اور اس نے ہمیشہ مذاکرات کا خیر مقدم کیا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے گزشتہ ہفتے اپنے دورۂ آسٹریا میں آئی اے ای اے کے سربراہ یوکیا امانو کے ساتھ ملاقات میں کہا ہے کہ ایران غیرمشروط طور پر مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہے تاکہ غلط فہمیوں کو بہترین طریقے سے دور کیا جا سکے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات کا میکنزم تیار کرنے سے پہلے آئی اے ای اے کو اس بات کا اعلان کرنا چاہیے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں پہلے سے اٹھائے گئے تمام سوالوں کے جوابات دے دیئے ہیں۔
بہرحال یہ بات طے ہے کہ ایران دباؤ کے نتیجے میں اپنے مسلمہ حقوق سے دستبردار نہیں ہو گا اور نہ ہی دھمکیوں سے مرعوب ہو گا۔ کیونکہ ایران نے کوئی ایسا کام نہیں کیا ہے کہ جسے ایٹمی خطرے کا نام دیا جائے یا اس کے بارے میں مفروضے قائم کر کے ہنگامہ کھڑا کیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
/169