13 جولائی 2011 - 19:30

عرب ممالک کے بعض شہریوں کی مسلسل کوششوں کے باوجود امریکی صدر باراک اوباما عرب ممالک میں امریکی تاریخ کے کے سب سے زیادہ قابل نفرت صدر سمجھے جا رہے ہیں۔

ابنا: ایک امریکی ادارے کے سروے کے مطابق مراکش،مصر،اردن،سعودی عرب،لبنان اور عرب امارات میں موجودہ امریکی جکومت کی کارکردگی کے خلاف سخت نفرت پائی جاتی ہے یہ نفرت بش کے آخری دور میں عروج پرتھی تاہم باراک اوباما کے آنے کے بعد اس میں قدرے بہتری آئی تھی۔  بش کے آخری سال میں مصر میں نو فیصد عوام امریکی پالیسیوں سے راضی تھے جبکہ یہی سطع باراک اوباما کے اقتدارمیں آنے کے بعد تیس فیصد ہو گئی تھی لیکن اس وقت یہ سطع پانـچ سے بھی نیچے آچکی ہے۔

باراک اوباما جب 2009 میں صدر بنے تو انہوں نے کہا تھا کہ وہ اسلام اور عربوں کے تعلق سے تبدیلیاں لائیں گے لیکن ان کی کاردگی اس کے برعکس سامنے آئی۔اور ان کی پالیسیوں اور بؤش میں کوئی فرق نہیں۔بش نے عراق اورافغانستان پر جارحیت کی جبکہ اوباما بھی اسی روش کو جاری رکھے ہوئے ہیں جس سے عالم اسلام اورعالم عرب میں انکے خلاف نفرت قابل فہم ہے۔کیونکہ وہ امریکہ کو واضع طور پر جارح سمجھتے ہیں۔امریکہ غاصب اسرائیل کا بھی سخت حامی ہے اور امریکی صدر باراک اوباما نے ایریل شیرون جیسے ظالم و شیطان صفت کو مرد امن کا خطاب دیا ہے جبکہ امریکی وزیر خارجہ نے لبنان کی 33 روزہ جنگ کو مشرق وسطی کا درد زہ قرار دیاتھا۔

موجودہ امریکی صدر نے نہ صرف عراق اور افغانستان کی جنگ کو بند نہیں کیا بلکہ مسلمانوں کے خلاف مخاصمانہ پالیسیوں کو بھی جاری رکھا ہوا ہے جسکی واضع مثالیں پاکستان اور لیبیا ہیں۔عرب ممالک بلخصوص بحرین،یمن اور اردرن وغیرہ بھی امریکی چالبازیوں سے محفوظ نہیں۔ لہذا اگر امریکی صدر باراک اوباما عرب ممالک میں امریکی تاریخ کے سب سے زیادہ قابل نفرت صدر سمجھے جا رہے ہیں تو اس پر تعجب نہیں ہونا چاہیے۔

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ /169