9 جولائی 2011 - 19:30

بحرین میں برطانیہ کےسابق سفیر جیمی بوڈن نےبرطانوی اخبارگلف ڈیلی نیوز کوانٹرویودیتےہوئےبحرین میں ایران کی مداخلت کادعوی کیاہے۔

ابنا: جیمنی بوڈن نےاپنےانٹرویوکےایک حصےمیں العالم اورپریس ٹی وی کی جانب سےبحرین میں ہونےوالےمظاہروں سےمتعلق خبروں کی کوریج کوبحرین کےامورميں ایران کی مداخلت کاثبوت قراردیاہے۔

بحرین میں سابق برطانوی سفیرنے دعوی کیاہےکہ بحرین میں ناجائزفائدہ اٹھانےسےمتعلق تہران کی کوششوں پرمبنی دلائل موجود ہیں۔

یہ حقیقت کہ العالم اور پریس ٹی وی نے علاقےکےبعض حقائق اورواقعات کوکوریج دی ہے نہ صرف مداخلت کی دلیل نہیں ہےبلکہ صحافتی ذمہ دار کاایک ثبوت ہے لہذ فطری امرہےکہ العالم اورپریس ٹی وی کی کارکردگي علاقےمیں مغربی ذرائع ابلاغ کی مانندڈکٹیٹ کی ہوئی نہیں ہےاور یہ برطانیہ کےلئےخوش آئند نہيں ہیں لیکن دوسروں پرالزام لگانا اوربحرین میں مداخلت کےدعوےکوثابت کرنےکےلئےمضحکہ خیزبہانےپیش کرنےسےان کےمسائل حل نہيں ہوں گے۔

اس وقت ایسےمتعدد مسائل موجود ہيں جن سےثابت ہوتاہے کہ بحرین کےعوامی مظاہروں کوکچلنےمیں برطانیہ کابھی ہاتھ رہاہے۔

اس کاایک ثبوت یہ ہےکہ بحرین کےمتعدد مظاہرین ایسےاسلحوں سےشہیدہوئےہیں جوبرطانیہ نےبحرینی حکومت کودئیےتھےاوراسی بناپرلبنان ، فرانس ، اوراٹلی کےوکیلوں کاایک گروہ، بحرینی مظاہرین کوکچلنےکی وجہ سےہیگ کی عالمی عدالت میں حکومت برطانیہ کےخلاف کیس دائرکرنےجارہاہے۔

بحرین میں گذشتہ کئی مہینوں سےمظاہرےہورہےہيں لیکن آل خلیفہ اورآل سعود کےہاتھوں مظاہروں کوبارہاکچلےجانےکےباوجوداس ملک کاکوئي ایک مسئلہ حل نہيں ہواہے۔

اس سلسلےمیں جوبات قابل توجہ نظرآتی ہےوہ امریکہ ، برطانیہ علاقےکےبعض ملکوں بالخصوص سعودی عرب کی جانب سےایران کےخلاف کیاجانےوالاپروپیگنڈہ ہے اس مسئلےکااگرتجزیہ کیاجائےتو دو نکتہ قابل توجہ ہے ایک یہ کہ برطانیہ کہ جس کی سامراجی تاریخ کافی پرانی ہے اپنی خارجہ پالیسی میں ہمیشہ تفرقہ آمیزپالیسیوں کاحامل رہاہے اسی بناپربرطانوی سامراج کے کہنہ مشق سیاستداں گمراہ کن مسائل کاسہارالےکربحرینی عوام کےحقوق کےحصول کی راہ میں روکاوٹ بن رہےہيں۔ دوسرا نکتہ یہ ہےکہ بحرین میں امریکی فوجی اڈہ ہونےکی وجہ سےعلاقےمیں اس کی پوزیشن اسٹریٹیجک حیثیت کی حامل ہےاوراسی بناپر ایران کےاسلامی انقلاب سےمتاثرہوکرشروع ہونےوالی اسلامی بیداری علاقےمیں اغیارکےخوف وہراس کاسبب بنی ہے اور اسی چیز نے انھیں سیاسی جوڑ توڑ اور ایران اورعلاقےکےعرب ممالک کےتعلقات کوخراب کرنےکی غرض سےتہران سےخوف زدہ کرنےکے لئے نفسیاتی جنگ چھیڑنےپرمجبور کردیاہے؛ اگرچہ یہ سیاست پہلےہی ناکام ہوچکی ہےلیکن اس حقیقت کوتسلیم کرناپڑےگاکہ علاقےکی صورت حال تبدیل ہوچکی ہے اوراس تبدیلی کی سب سےاہم خصوصیت اسلامی بیداری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ /169