ابنا: مصر کی وزارت داخلہ نے پولیس کو ھدایات دی تھیں کہ مظاہرین کو تحریر اسکوائر سے نکالنے کی کوشش نہ کی جائے اورنہ مظاہرین کو منتشر کیا جائے اس کےباوجود پولیس نے مظاہرین پرحملہ کیا۔ مصر کے انقلابیوں نے پولیس کے تشدد کی مذمت کی ہے، یادرہے جھڑپيں اس وقت شروع ہوئيں جب پولیس نے انقلاب کے دوران شہید ہونے والوں کے اھل خانہ کو التحریر اسکوائر میں جانے سے روک کر انہيں زد و کوب کیا۔ یادرہے سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کے زمانےمیں شروع ہونےوالے انقلاب میں آٹھ سو پچاس افراد جاں بحق اور چھ ہزار سے زائد زخمی ہوئےہیں۔ مصری عوام کا مطالبہ ہےکہ سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک اور عوام کے قتل عام میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جاۓ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز