23 جون 2011 - 19:30

لبنان کے سابق وزیراعظم سعد حریری امریکہ اور بعض مغربی ممالک کی مدد سے نجیب میقاتی کی کابینہ کو ناکام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ابنا: سعد حریری نے گزشتہ جنوری میں اپنی حکومت کے خاتمے کے وقت سے لبنان کے نئے وزیراعظم نجیب میقاتی کو ناکارہ اور ناکام ظاہر کرنے کے لیے بہت کوششیں کی ہیں اور ان کی جماعت نجیب میقاتی کی حکومت کو اصل میں حزب اللہ اور شام کی حکومت قرار دیتی ہے۔سعدی حریری نے ہمیشہ علاقے میں امریکہ اور صیہونی حکومت کی پالیسیوں کی پیروی کی ہے۔ انہوں نے شروع میں لبنان کے شمالی شہروں کے عوام کو مشتعل کرکے ان شہروں میں مظاہرے کرنے اور داخلی حالات خراب کر کے نجیب میقاتی کی حکومت کو کام کرنے سے روکنے کی کوشش کی لیکن ان کی یہ سازش عوام کی ہوشیاری سے ناکام ہو گئی۔ لیکن اب شام میں بدامنی کے بعض واقعات شروع ہونے کے بعد سعد حریری شام کے مفرور نائب صدر عبدالحلیم خدام کے ساتھ مل کر بشار اسد کی حکومت کے خلاف مظاہرے کرانے میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ سعد حریری اور عبدالحلیم خدام کا مقصد بشار اسد کی حکومت کو گرانا، تہران دمشق اور بیروت کے تعلقات کو منقطع کرنا اور حزب اللہ لبنان کو غیرمسلح کرنا ہے۔ لبنان کے داخلی حالات کا شام اور علاقے کے واقعات سے براہ راست تعلق ہے اور اگر بشار اسد کی حکومت کے لیے حالات دشوار ہوئے تو ان کا منفی اثر لبنان کے داخلی حالات پر بھی پڑے گا اور نجیب میقاتی کی حکومت بھی مشکل سے دوچار ہو جائے گی۔ دوسری جانب لبنان کے روزنامہ الاخبار نے لکھا ہے کہ سعد حریری اپنی جماعت چودہ مارچ گروپ کے ساتھ مل کر لبنان کے بینکوں کے نیٹ ورک کو اس کے باوجود کہ ان بینکوں میں بہت زیادہ سرمایہ ہے، کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس لبنانی اخبار نے مزید لکھا ہے کہ سعد حریری شام کے داخلی اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ سعد حریری کی یہ کوشش بھی ہے کہ رفیق حریری قتل کیس کی سماعت کرنے والی مکمل طور پر سیاسی عدالت میں مداخلت کر کے اور حزب اللہ کے بعض ارکان پر اس قتل کا الزام لگا کر میقاتی کی حکومت کو مسائل و مشکلات سے دوچار کر دیں۔ رفیق حریری قتل کیس کی عدالت کا مقصد یہ ہے کہ نجیب میقاتی کی کابینہ میں شامل حزب اللہ سے وابستہ بعض وزراء پر رفیق حریری کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا جائے تاکہ عدالت ان کی گرفتاری کا حکم دے اور انہیں حکومت میں کام کرنے سے روک دیا جائے۔نجیب میقاتی کی سربراہی میں لبنان کی نئی کابینہ کو کہ جو امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کی ڈکٹیشن کے بغیر تشکیل پائي ہے، ان ممالک کی مخالفت کا بھی سامنا ہے۔ امریکہ اور بعض مغربی ممالک نے کہ جن کے سعد حریری کی سربراہی میں قائم ہونے والی لبنانی کابینہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے، نجیب میقاتی کی کابینہ کی مخالفت کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ساتھ مخاصمانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ امریکہ فرانس برطانیہ اور صیہونی حکومت میقاتی کی کابینہ میں حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے وزراء کی شمولیت کے خلاف ہیں۔ امریکہ نے دھمکی دی ہے کہ اگر لبنان کی نئی حکومت نے رفیق حریری قتل ٹربیونل کی مخالفت کی تو وہ لبنان کی فوجی امداد بند کر دے گا۔ نجیب میقاتی کی سربراہی میں لبنان کی نئی حکومت سعد حریری کی حکومت کے خاتمے کے پانچ ماہ بعد گزشتہ ہفتے تشکیل پائی ہے جس میں تیس وزراء شامل ہیں اور ان میں سے کوئی بھی سعد حریری کی جماعت چودہ مارچ گروپ سے تعلق نہیں رکھتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت