13 جون 2011 - 19:30

کوئٹہ…خروٹ آباد فائرنگ واقعہ کے اہم گواہ صحافی جمال ترہ کئی کو پولیس کی جانب سے تقریبا دو گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد رہا کردیاگیا۔

ابنا: جبکہ گرفتاری پر دو پولیس اہلکاروں کو معطل کردیاگیاجمال ترہ کئی آج صبح معمول کے مطابق اپنے گھر واقع خروٹ آباد سے ساتھی کے ہمراہ موٹر سائیکل پر شہر کی طرف آرہے تھے کہ راستے میں گشت پر معمور پولیس اہلکاروں نے انہیں روکا،اس موقع پر جمال ترہ کئی نے پولیس اہلکاروں کو اپنا تعارف بھی کرایا کہ کہ وہ صحافی ہیں اور اپنے فرائض کی ادائیگی کے لئے جارہے ہیں تاہم موقع پر موجود اہلکاروں نے ان کی ایک نہ سنی اور انہیں زدو کوب کیا، اور بعد میں انہیں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری کی خلاف ورزی کے بہانے خروٹ آباد تھانے لے جایا گیا جہاں انہیں تقریبا دو گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا، تاہم بعد میں واقعہ کا اعلی پولیس حکام کے نوٹس میں آنے کے بعد انہیں رہا کردیا گیا، اس واقعہ میں جمال ترہ کئی کو ناجائز طور پر حراست میں رکھنے اور ان کے ساتھ بدتمیزی کرنے پر ڈی آئی جی پولیس آپریشن حامد شکیل نے خروٹ آباد تھانے کے محرر محمد اسلم اور کانسٹیبل رجب علی کو معطل کردیا۔

صحافی کی گرفتاری اور پولیس سرجن پر تشدد، سی سی پی او کوئٹہ طلبکوئٹہ میں صحافی جمال ترہ کئی کی گرفتاری اورپولیس سرجن ڈاکٹر باقر شاہ پر تشدد کے واقعہ پرخروٹ آباد واقعہ کے انکوائری ٹریبونل نے سی سی پی او کوئٹہ کو طلب کرلیا۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ شب پولیس سرجن ڈاکٹر باقر شاہ کو چند پولیس اہلکاروں نے گاڑی سے اتار کر تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ آج صبح سانحہ خروٹ آباد کی ویڈیو بنانے والے مقامی فوٹو گرافر جمال ترہ کئی کو خروٹہ اباد پولیس تھانے کے عملے نے گھر سے پر یس کلب آتے ہوئے گرفتاکر کے لے گئے اور اسے بھی تشدد کا نشانہ بنایا جس پر سانحہ خروٹ آباد پر قائم تحقیقاتی ٹریبونل بلوچستان ہائی کورٹ کے جج جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او کوئٹہ غالب علی اندیشہ کو ٹریبونل میں طلب کر لیا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت