13 جون 2011 - 19:30

لاہور…بجلی اور گیس کی قلت کے مارے عوام پہلے آٹا،پھر چینی اور اب پیٹرول نامی اس نایاب شے کے حصول کے لئے بھی لمبی قطاروں میں لگنے پر مجبور ہیں۔

ابنا: آزاد کشمیر کے علاقے مظفرآباد کے پیٹرول پمپس پر گزشتہ دس روز سے پیٹرولیم مصنوعات غائب ہیں۔جن پمپس پر تھوڑا بہت پیٹرول اور ڈیزل دستیاب بھی ہے اسے پمپ مالکان مہنگے داموں فروخت کرنے میں مصروف جبکہ عوام لمبی قطاریں لگا کر منہ مانگے دام پیٹرول اور ڈیزل خریدنے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں۔پنجاب کے علاقے سرگودھا اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں بھی پیٹرول کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔دفتروں کے لئے نکلنے والے افراد طویل قطاروں میں وقت برباد ہونے کے باعث پریشان ہیں تو دوسری جانب طلبہ بھی صورتحال سے مایوس دکھائی دیتے ہیں۔فیصل آباد کے ایک سو چالیس پیٹرول پمپس میں سے مشکل سے چند ایک پر ہی پیٹرول موجود ہے جسے حاصل کرنے کے لئے عوام کا جم غفیر سرتوڑ کوششوں میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ جنوبی پنجاب کے علاقوں ملتان،مظفر گڑھ،ڈیرہ غازی خان،بہاولپور اور بہاولنگر میں بھی پیٹرول کی قلت ہے۔شہریوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قلت جلد ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔لاہورمیں پٹرول کی قلت ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود جاری ہے، جس سے لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ گیا ہے۔ لاہور میں ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود پٹرول کی قلت جاری ہے اور لوگ پٹرول کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔شہر کے پٹرول پمپ بند ہیں اور جن پٹرول پمپوں پر پٹرول دستیاب ہوتا ہے وہاں طویل قطاریں لگی نظر آتی ہیں،پیر اور منگل کو سی این جی کی دو روزہ بندش کی وجہ سے صارفین کی مشکلات اور بھی بڑھ گئی ہیں،اور موٹر سائیکل سواروں کے ساتھ گاڑیوں والے بھی سڑکوں پر دھکے لگاتے نظر آتے ہیں،صارفین کا کہناہے کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت