ابنا: دسیوں خواتین کہ جن سے گرفتاری کے بعد تفتیش کی گئی ہے ان سینکڑوں خواتین میں شامل کی گئیں ہیں جو پہلے سے گرفتار ہیں ۔الوفاق نے مزید کہا کہ مئی کے مہینے میں آزادکی جانے والی خواتین کی تعداد بہت ہی کم ہے جبکہ گرفتارشدگان میں اضافہ ہوا ہے جن میں نرسوں اور سکول ٹیچرز اور جاب کرنے والی خواتین شامل ہیں ۔اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ آفشلز کے بیان کے مطابق اس وقت صرف 6 خواتین قیدی ہیں جبکہ قیدی خواتین کی اصل تعداد10بنتی ہے ،بہت سی ایسی خواتین قیدی ہیں کہ ابھی تک ان لے گھر والوں کو ان کا علم نہیں کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے اور ان کا ان سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہوپارہا ہے۔بیان کے مطابق بہت سی قیدی خواتین کی جانب سے یہ شکایت آئی ہے کہ جب ان سے تفتیش کی جاتی ہے تو انہیں یہ نہیں بتایا جاتا ہے ان کی گرفتاری کی وجہ کیا ہے اور یہ بات سراسر قانون کے خلاف ہے خواہ یہ تفتیش پولیس اسٹیشن میں کی جارہی ہو یا پھر سکولوں میں یا وزارت تعلیم کے کسی دفتر میں خاص کر کہ سکول ٹیچرز کے حوالے سے کی جانے والی تفتیش ۔الوفاق کا مزید کہنا ہے کہ کچھ خاص سکولوں کی ٹیچرز اور طالبات کو تفتیش کے بہانے گرفتار کیاگیا ہے اور طالبات اور ٹیچرز کو امتحانات کے دوران اٹھایا گیا ہے ۔ ہمیں نہیں معلوام کہ کیا کسی کو گرفتاری اور تفتیش کے دوران اس کے وکیل سے ملنے دیا گیا ہوجیسے کہ یہ ان کا قانونی حق ہے ۔الوفاق کے بیان کے مطاقب تفتیش کے دوران ان سے اکثر اسکی جاب ،اس کے عقائد،اس کے سماجی تعلقات،اور اس کے نظریات کے بارے میں پوچھا جاتا ہے ۔ایک طرف حکومتی ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ احتجاج سب کا قانونی حق ہے اور اس پر کوئی پابندی نہیں لیکن گرفتار ہونے والی اکثر خواتین خاص کر سکول ٹیچروں سے اس بات کی تفتیش کی جارہی ہے کہ انہوں نے مظاہروں میںشرکت کیوں کی تھی اور اسی بات پر ہی بعض ٹیچروں اور طالبات کو 24 سے 48گھنٹے تک گرفتار رکھا جاتا ہے ۔گرفتاریوں کے بارے میں الوفاق کا مزید کہنا ہے کہ انتہائی خوف و ہراس کے بہت سی ٹیچروں ،نرسوں اور جاب کرنے والی خواتین کوگرفتار کیا جارتا ہے اور تفتیش کار انہیں مختلف ہتھکنڈوں مجبور کرتا ہے کہ اپنے مطلب کی بات ان کے منہ سے اگلوائے ۔ایسے اعتراف ناموں پر دستخط کرایے جاتے ہیں جس کی تحریر سے قیدی خاتون واقف نہیں ہوتی اور جب وہ سوال کرتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ ”کیا تمہیں ہم پر بھروسہ نہیں ؟ “بعض قیدی خواتین کے جسموں پر تشدد کے نشانات نظر آتے ہیں اور ان کے ساتھ انتہائی بدتمیزی کا سلوک کیا جاتا رہا ہے ۔تفتیش کے آغاز سے ہی ان کے ساتھ انتہائی سختی اور تشدد کے ساتھ کام لیا جاتا ہے جبکہ وہ اس وقت اس بات سے بے خبر ہوتیں ہیں کہ ان کی گرفتاری کی اصل وجہ کیا ہے جیسے چینل 24اور ریڈیومونتکارلو کی نامہ نگار نزیھہ سعید کے ساتھ ہوا ۔بیان کے مطابق گرفتار شدہ خواتین کے نام بعد میں ایک مشکوک ویب سائیڈ پر نظر آتے ہیں اور ان کے ناموں کے ساتھ خیانت کاراور وطن فروش جیسی تہمتیں لگائی جاتی ہےبحرین کی اولوفاق نیشنل سوسائٹی مطالبہ کرتی ہے کہ فورا تمام قیدی خواتین کو آزاد کیا جائے اور ان پر تشدد بن کیا جائےخواتین پر تشدد عرب کلچر اور اسلامی قوانین و اخلاق کے خلاف ہے ہم تاکید کرتے ہیں کہ لاپتہ خواتین کی تمام تر ذمہ داری حکومتی فورسز پر عائد ہوتی ہے اور اسی طرح خواتین کی گرفتاری ،ان پر تشددکی تمام تر قانونی ،اخلاقی ذمہ داری اور اس کے نتائج کی ذمہ دار حکومت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز