ابنا: ناوابستہ تحریک انیس سو اکسٹھ میں قائم کی گئي۔ اس تحریک کے مقاصد میں ہتھیاروں کی نابودی ، انسانی حقوق اور دہشتگردی کے علاوہ عالمی اقتصادی مسائل اور علاقائي مسائل شامل تھے۔ ان مقاصد سے قطع نظر موجودہ حساس حالات میں بالی اجلاس مستقبل سے متعلق فیصلوں کے بارے میں اس تنظیم کا ایک انتہائي اہم اجلاس شمار کیا جارہا ہے۔ دنیا کے ایک سو بیس ممالک کے وزراۓ خارجہ انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں ایسے وقت اکٹھے ہوۓ ہیں کہ جب دنیا کو گزشتہ نصف صدی سے بڑے بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے۔اور اس کے علاوہ یہ تنظیم آئندہ پچاس برسوں کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لۓ بھی کوشاں ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی بھی اس اجلاس میں شریک ہیں ۔ انہوں نے اس اجلاس میں تقریر کرتے ہوۓ اس بات پر تاکید کی کہ مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوۓ اس موقع سے فائدہ اٹھایا جانا چاہۓ ۔ علی اکبر صالحی نے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کی تازہ ترین صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہوۓ کہا کہ یہ صورتحال مشرق وسطی کے اہم پیغام کی حامل ہے۔ علی اکبر صالحی نے حالیہ این پی ٹی جائزہ کانفرنس کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ ایران نے ناوابستہ تحریک کے دوسرے رکن ممالک کے ساتھ مل کر این پی ٹی معاہدے کی شق نمبر چھ پر مکمل طور پر عملدرآمد کے لۓ ایک قانونی دائرہ کار معین کۓ جانے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس تجویز میں سنہ دو ہزار پچیس تک تمام ایٹمی ہتھیاروں کی نابودی پر تاکید کی گئي ہے ۔ ایران نے سنہ دو ہزار چھ میں انسانی حقوق اور ثقافتی تنوع کے بارے میں ناوابستہ ممالک کے وزراۓ خارجہ کا اجلاس بلایا تھا جس کا ایک نتیجہ انسانی حقوق اور ناوابستہ ممالک کی تحریک کے ثقافتی تنوع کے مرکز کے قیام کی صورت میں برآمد ہوا۔ دہشتگردی سے مقابلے کے سلسلے میں بھی تہران میں دہشتگردی سے مقابلے کی عالمی کانفرنس کے انعقاد کا راستہ ہموار کیا جاچکا ہے۔ اس کے علاوہ ایران اگلے سال ناوابستہ ممالک کی تنظیم کی سربراہی بھی اپنے ہاتھ میں لینے والا ہے جس کی مدت دو ہزار بارہ سے دو ہزار پندرہ تک کے تین برس ہوں گے۔ مبصرین کا کہنا ہےکہ ناوابستہ ممالک کی تنظیم اب عالمی مینیجمنٹ میں موثر شرکت کرنے کا موقع حاصل کرچکی ہے۔ اور وہ قیام امن اور جمہوریت کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہے۔ البتہ اسے اپنے مقاصد کے حصول کے لۓ انسانی حقوق ، دہشتگردی اور ہتھیاروں کی نابودی جیسے چیلنجوں کا سامنا اور کامیابی کے ساتھ ان کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ اور اسی صورت میں وہ اقوام کے عزم و ارادے کے ساتھ عالمی سلامتی کے قیام کی راہ میں موجود رکاوٹوں کو دور کرسکتی ہے۔ حقیقت یہ ہےکہ عالمی برادری اب اس نتیجے پر پہنچ چکی ہےکہ غیر منصفانہ سیاسی اور اقتصادی تعلقات اور دنیا کے بہت سے ممالک پر مسلط کردہ علمی پسماندگی کو نہ تو اب مزید برداشت کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی یہ ہمیشہ کے لۓ برقرار رہ سکتی ہے۔ اس لۓ اب نۓ دور میں داخل ہوجانا چاہۓ ۔ اس تبدیلی کے آثار عالمی سطح پر پیدا ہونے والی بیداری میں نظر آنےلگے ہیں۔ یہ بات مسلم ہےکہ ناوابستہ ممالک کی سیاسی ، اقتصادی اور ثقافتی صلاحیتیں ایک بہت عظیم طاقت کو تشکیل دیتی ہیں اور یہ تنظیم اپنی سیاسی اور اقتصادی طاقت کو کام میں لاکر عالمی چیلنجوں سے مقابلے کے سلسلے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز