ابنا: کوئٹہ میں ایف سی اور پولیس کی فائرنگ سے تین روز قبل مارے جانے والے پانچ مبینہ دہشت گردوں کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔
مارے جانے والوں میں ماں باپ، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہیں۔
چیچنیا سے تعلق رکھنے والا یہ مسلمان چیچن خاندان جن کے پاس روسی پاسپورٹ تھے، افغانستان سے پاکستان آیا تھا اور ان کے پاسپورٹس پر ایرانی ویزے لگے ہوئے تھے۔
پولیس سرجن ڈاکٹر باقر شاہ کے مطابق تمام افراد گولیوں سے ہلاک ہوئے اور ان میں سے کسی کے جسم پر بم دھماکے کے کوئی زخم نہیں تھے۔
کوئٹہ کے ہسپتال میں پانچوں بدقسمت چیچن مسلمانوں کا پولیس کی طرف سے پوسٹ مارٹم نہ کئے جانے کے بے حد دباؤ کے باوجود پوسٹ مارٹم کیا گیا۔
پولیس ڈاکٹرز پر اپنی مرضی کی رپورٹ حاصل کرنے کیلئے شدید دباؤ ڈال رہی ہے۔
جمعہ کو یہاں مقامی ہسپتال میں پانچوں مبینہ دہشت گردوں کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔
ہسپتال ذرائع نے پانچوں بدقسمت چیچن مسلمانوں کے پاسپورٹس دیکھ کر یہ انکشاف کیا کہ یہ تمام ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔
خاندان کے سربراہ کی عمر چالیس سے پینتالیس سال، اس کی بیوی کی عمر پینتیس سال کے لگ بھگ جبکہ دونوں بیٹیوں اور بیٹے کی عمریں اٹھارہ سے بیس سال کے درمیان بتائی جاتی ہیں۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق ان بچوں کی والدہ سات ماہ کی حاملہ تھی۔
ہسپتال ذرائع نے بتایا ہے کہ پوسٹمارٹم کے دوران یہ انکشاف بھی ہوا کہ ایف سی کی اندھا دھند فائرنگ سے ہلاک ہونے والے ان پانچوں کو اندھا دھند گولیاں ماری گئیں اور ان سب کے جسم گولیوں سے بری طرح چھلنی تھے۔
واضح رہے کہ سی سی پی او کوئٹہ نے جب اس بدقسمت خاندان کو دہشت گرد قرار دیا تو انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ہم نے ان دہشت گردوں کو مارا ہے جبکہ گزشتہ روز سی پی او نے اپنی تضادات سے بھری پریس کانفرنس میں اپنے گزشتہ موقف سے انحراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ پانچوں مبینہ دہشت گرد فائرنگ سے نہیں بلکہ اپنے جسم پر باندھے ہوئے بم پھٹنے سے مارے گئے ہیں۔
پوسٹ مارٹم کے دوران جو حقائق سامنے آئے ہیں ان سے پولیس اور ایف سی کا سارا جھوٹ ایک بار پھر کھل کر سامنے آگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ بدقسمت خاندان روس سے افغانستان آیا تھا اور افغانستان سے پاکستان کے راستے ایران جا رہا تھا۔
ذرائع کے مطابق افغانستان میں اس خاندان کو نامعلوم افراد نے یہ مشورہ دیا کہ وہ پاکستانی ویزے لینے کے لمبے چکروں میں نہ پڑیں اور چمن کے راستے پاکستان میں داخل ہو جائیں تو وہاں سے لوگ انہیں ایران کی سرحد پار کروا دیں گے۔ ان کے پاسپورٹس پر ایرانی ویزے موجود ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ بدقسمت خاندان چمن کے راستے جونہی پاکستان میں داخل ہوا تو بدقسمتی نے انہیں گھیر لیا اور چمن سے کچلاک تک راستے میں بھی ان کے ساتھ انتہائی ظلم اور زیادتی ہوئی اور اس کے بعد یہ خاندان دو تین پولیس چیک پوسٹوں پر پولیس اہلکاروں کی زیادتیوں کا بھی شکار ہوا اور ہر جگہ پولیس اہلکار ان سے رشوت طلب کرتے رہے اور انہیں دیگر زیادتیوں کا نشانہ بھی بنایا گیا۔
جب یہ خاندان کوئٹہ میں پولیس چیک پوسٹ پر پہنچا تو ان سے رشوت طلب کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس اب کوئی پیسے موجود نہیں تو پولیس اہلکاروں نے ان کو گاڑی سے اتار کر ان کے ہاتھ باندھ دیئے اور انہیں دہشت گرد قرار دینے کا ڈرامہ رچانا شروع کر دیا۔
پولیس چیک پوسٹ سے جب یہ بدقسمت خاندان جان چھڑا کر نکلا تو پولیس چیک پوسٹ کے عملے نے اعلیٰ پولیس حکام اور ایف سی والوں کو دہشت گردوں کی اطلاع دے کر سنسنی پھیلا دی۔
اسی بناء پر جب یہ خاندان ایف سی کی چیک پوسٹ پر پہنچا تو ایف سی کے اہلکاروں نے بھی کسی تصدیق کے بغیر ان پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی اور معصوم بچیوں کی طرف سے ہاتھ اٹھا اٹھا کر امان طلب کرنے کے باوجود بھی ان پر کسی کو رحم نہ آیا اور سب کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔
وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کا جامع تحقیقات کا حکم
وزیر داخلہ رحمن ملک اور وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے خروٹ آباد کوئٹہ میں پولیس اور ایف سی کے پانچ چیچن مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دے کر مارنے کے واقعے کی ہر پہلو سے جامع تحقیقات کے لئے پولیس سمیت دیگر اداروں کے حکام پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دینے کا حکم دیا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے تحقیقات کے لئے ہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل عدالتی ٹربیونل کے قیام کا بھی اعلان کر دیا جو واقعہ کی مکمل تحقیقات کر کے اپنی رپورٹس دو ہفتوں کے اندر وفاقی اور صوبائی حکومت کو پیش کریں گی۔
جمعہ کو وزیر داخلہ نے بھی اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے وزارت داخلہ کے حکام کو اعلیٰ سطحی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بنانے کی ہدایت کی جبکہ سیکرٹری داخلہ بلوچستان ظفر اللہ بلوچ نے یہاں میڈیا کو بتایا کہ واقعہ کی تحقیقات کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی قائم کردہ کمیٹیاں علیحدہ علیحدہ اپنی تحقیقات کریں گی۔
وزیر اعلیٰ نے جو کمیٹی تشکیل دی ہے وہ اپنی رپورٹ وزیر اعلیٰ کو اور وزیر داخلہ کی کمیٹی وفاقی حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
صوبائی سیکرٹری داخلہ نے کہاکہ اس واقعہ کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جائیں گی اور جو لوگ بھی ذمہ دار پائے گئے انہیں سخت سزائیں دی جائیں گی۔
دریں اثناء وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے بلوچستان ہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل عدالتی ٹربیونل بھی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جو تمام واقعہ کی مکمل تحقیقات کر کے اپنی رپورٹ صوبائی حکومت کو پیش کرے گا۔
ڈرامے کا مرکزی کرداراے ایس آئی رضا خان خلجی گرفتار نہ ہوسکا
کوئٹہ میں پانچ چیچن مسلمانوں پر مشتمل پورے خاندان کو دہشت گرد قرار دے کر مارنے کے ’’ڈرامے‘‘ کا مرکزی کردار بلوچستان پولیس کے اے ایس آئی رضا خان خلجی کو تاحال گرفتار نہیں کیا گیا اور اس حوالے سے گزشتہ روز پولیس حکام کی طرف سے کیا گیا دعویٰ جھوٹا نکلا ہے۔
جمعہ کو ذمہ دار ذرائع کے مطابق اے ایس آئی رضا خان خلجی بدستور آزاد گھوم پھر رہا ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ رضا خان خلجی کی طرف سے دی جانے والی جھوٹی رپورٹس کی بناء پر کوئٹہ پولیس کے اعلیٰ حکام نے اس بدقسمت خاندان کو دہشت گرد سمجھتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی شروع کی اور جب یہ خاندان پولیس سے بچنے کے لئے ایف سی کی چیک پوسٹ پر پہنچا تو ایف سی کے اہلکاروں نے بھی تصدیق کئے بغیر ماں بیٹا، دو بیٹیوں اور ایک بیٹے پر مشتمل اس مسلمان خاندان کو گولیوں سے بھون ڈالا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز