17 مئی 2011 - 19:30

امریکی ذرائع نے بن لادن کی ہلاکت کے بعد القاعدہ کے عبوری سربراہ کے طور پر سیف العدل کی تقرری کی اطلاع دی ہے / سیف العدل خود القاعدہ کا مستقل قائد نہیں ہوگا بلکہ وہ ایمن الظواہری کے لئے القاعدہ کے ارکان سے بیعت لے گا۔

ابنا: القاعدہ کا عبوری رہنما نام محمد ابراہیم مکاوی ہے جو سیف العدل کے نام سے مشہور ہے۔ وہ القاعدہ کے فوجی شعبے کا سربراہ  رہا ہے۔

مکاوی وہ سنہ 1988 میں نیروبی اور دارالسلام میں امریکی سفارتخانوں پر حملوں کے سلسلے میں امریکہ کو مطلوب ہے اس کی گرفتاری کے لئے پانچ ملین ڈالر کا انعام مقرر ہے وہ القاعدہ کا نمبر 3 ہے۔اسامہ بن لادن کا سابق نائب نعمان بن عثمان - جو آج کل لندن میں رہائش پذیر ہے - اور ویلیم ریسرچ سینٹر  چلا رہا ہے۔

نعمان نے امریکی ذرائع کو بتایا ہے کہ سیف العدل کو وہ قریب سے جانتا ہے جس کی عمر 50 برس ہے، مصری باشندہ ہے اور وہ 1988 میں دارالسلام اور نیروبی میں امریکی سفارتخانوں پر حملے میں ملوث رہا ہے۔

دریں اثناء القاعدہ نے اپنے عبوری رہنما کی تقرری کی تردید یا تصدیق نہیں کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق سیف العدل خود القاعدہ کا مستقل قائد نہیں ہوگا بلکہ وہ ایمن الظواہری کے لئے القاعدہ کے ارکان سے بیعت لے گا۔

امریکی ٹی وی سی این این نے القاعدہ کے عبوری رہنما کی حیثیت سے سیف العدل کی تقرری کی تصدیق کی ہے۔

بعض ذرائع کے مطابق القاعدہ کے بعض اعلی رہنماؤں کا  امریکہ اور برطانیہ کے خفیہ اداروں کے ساتھ قریبی تعاون اور تال میل جاری ہے۔

اسلامی ممالک میں تنظیم کی سرگرمیاں پہلے سے ہی مشکوک رہی ہیں۔

بشکریہ از مہر خبررساں ایجنسی

صدر جمہوریہ ایران نے حال ہی میں کہا ہے کہ اسامہ امریکیوں کی قید میں تھا اور انھوں نے اسے بیمار کررکھا تھا اور پھر اوباما کی انتخابی مہم کی ابتدائی مرحلے میں اس کو قتل کیا اور اب وہ القاعدہ کا نیا سرغنہ چننے کے لئے ساز باز میں مصروف ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/169 - 110 

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز

کلک کریں:

 بحرین میں مظالم روکنے کےلئےclick صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت