15 مئی 2011 - 19:30

اسلام آباد . . . . . امریکی سینیٹ کے خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ سینیٹر جان کیری نے کہا ہے کہ امریکامانتا ہے پاکستان کیلئے خود مختاری کا مسئلہ اہم ہے ،اسامہ کی پاکستان میں موجودگی سے کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں، اسامہ بن لادن نے پاکستان کی خود مختاری کو پامال کیا اوراس کی خلاف ورزی کی۔

ابنا: اسلام آباد میں میڈیا کے سامنے اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایبٹ آباد آپریشن کاگنتی کے چند لوگوں کو علم تھا،انہیں اورجنرل پیٹریاس کو بھی آخر وقت تک ایبٹ آباد آپریشن کا پتانہیں تھا،امریکی فوجیوں کے تحفظ کویقینی بنانے کیلیے آپریشن خفیہ رکھا گیا، صدراوباما، اسامہ کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے تھے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اورامریکاکومشترکہ دشمن دہشتگردی کاسامنا ہے،اسامہ بن لادن 35 ہزار پاکستانیوں کی ہلاکت کا ذمے دار اور 3 ہزار امریکیوں کے قتل کا ماسٹر مائنڈ تھا۔انہوں نے کہا کہ جنرل کیانی اور جنرل پاشا کو امریکیوں کی تشویش سے آگاہ کیا،پاکستان کی امداد روکنے کیلئے دباؤ ہیتاہم کیری لوگر بل کے تحت منصوبے جاری رہیں گے۔ پاک امریکا تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، پاکستانی عوام کو منجدھار میں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ پاکستان سے طویل مدت تعلقات قائم رکھیں گے، پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں عظیم قربانیاں دیں، نہیں بھول سکتے کہ پاکستان کے 35ہزار افراد نے اس جنگ میں جانوں کا نذرانہ دیا۔ امریکا اور پاکستان میں اعتماد میں کمی نہیں آئی ،دونوں ملکوں کے درمیا ن اعتماد کو بڑھانے آیا ہوں،دورہ پاکستان کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو آگے بڑھا نا ہے،پاکستان نے طویل المدت تعلقات بڑھانا چاہتے ہیں اور امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن جلد پاکستان کا دورہ کرینگی۔ سینیٹر جان کیری کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان معافی مانگنے نہیں آئے ، یہ فیصلہ پاکستانی عوام نے کرنا ہے کہ وہ کیسا پاکستان چاہتے ہیں، ایسا پاکستان جو دہشت گردوں کا گڑھ ہو یا محمد علی جناح کا پاکستان۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169