ابنا: اخبار نے 2مئی کے بعد سے لے کر اب تک کہ 10 دنوں کے دوران آرمی چیف سے ملاقات کرنے والوں کے حوالے سے کہا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعدامریکا کی طرف سے پاکستان پر بڑھتے دباوٴکے باوجود پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی دہشت گردوں کے رہنماوٴں کے خاتمے کے امریکی مطالبات کا جواب دیتے دکھائی نہیں دیتے۔ جبکہ کیانی اتحاد کو مکمل طور پر ختم بھی نہیں کرنا چاہتے۔ وہ امریکاپر پاکستان کے انحصار میں کمی کی حکمت عملی کو لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ وہ اربوں ڈالر کی مدد کے بدلے تعاون جاری رکھنا چاہتے ہیں۔اس طرح کے ردعمل اب امریکا کے لیے ایک ٹیسٹ ہے ،اس سے قبل امریکا پاکستان پر اس سے زیادہ بد اعتمادی نہیں کرتا تھا جتنی آج یہ فضا قائم ہے۔ اسامہ کی ہلاکت کے بعد امریکی جنرل اب پاکستان سے زیادہ تعاون کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ القاعدہ اور طالبان کو ختم کر ے تاکہ افغانستان میں امریکا جنگ کو ختم کر سکے۔اب پہلے کی نسبت امریکا کیانی پر زیادہ دباوٴ ڈالے گا کہ عسکریت پسندوں کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات ختم کیے جائیں جنہیں امریکا سمجھتا ہے کہ وہ پاکستان میں چھپے ہوئے ہیں۔ان میں ملا عمر،سراج الدین حقانی اور لشکر طیبہ شامل ہے امریکی حکام کے مطابق ممبئی حملوں میں لشکر طیبہ ملوث ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110