جس دم بتول حشر کے میداں میں آیئں گیلاشہ وہ اپنی گود میں محسن کا لائیں گیچہرے پہ اپنے خون حسین و حسن لئےخاتون حشر عرش معلی ہلایئں گی

امت نے دکھ دیے ہیں جو ان کا حساب لےوارث تھی میں رسول خدا کی جواب لےچھینا فدک کو مجھ سے علی کو بندھے رسسنانیسویں کی صبح کا بدل بے حساب لے

بیکس تھا بے وطن تھا گھرانہ حسین کاکرب و بلا کے دشت میں لانا حسین کاگھیرا تھا شامیوں نے شہ مشرقین کولینا تھا انتقام جو بدر و حنین کا

کیسے بیاں کروں میں وہ جنگ کا منظرشبیر کے ہاتھوں میں جوان لاشہ اکبردیکھا نہ گیا مجھ سے وہ قاسم کا سراپااور لاشہ صد پاش پہ گھوڑوں کے وہ چکر

موسی رضا بیان کو اپنے تمام کرجھک کر ادب سے آل نبی کو سلام کرراضی راہیں بتول دعا بس یہی رہےاب اس سے آگے اور نہ کوئی کلام کر

موسی رضا١٢/٥/٢٠١١

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز

 بحرین میں مظالم روکنے کےلئے صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت