اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایک بحرینی سیاستدان "علی الفَرَج" نے آج العالم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ با وثوق ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق آل سعود بحرین میں دائمی موجودگی اور اس ملک کے عوام پر اپنا وہابیانہ دباؤ جاری رکھنے کی پلید نیت سے اس ملک میں فوجی اڈا بنانے کے درپے ہے اور یہ بحرینی عوام کے خلاف بیرونی سازشوں کا حصہ ہے۔انھوں نے کہا: حال ہی میں آل خلیفی حکمرانوں کی طرف سے بھی سنا گیا ہے کہ گویا وہ بحرین میں جزیرہ نما شیلڈ کی فورسز کے دائمی اڈے کے قیام کے خواہاں ہیں اور ان باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بحرین میں آل سعود کے جلادوں کے رہنے یا رہنے کے بارے میں اصل فیصلے کا اختیار آل سعود حکمرانوں کے ہاتھ میں ہے اور آل خلیفہ خاندان اس حوالے سے بالکل بے اختیار ہے اور آل خلیفی حکمران اس سعودی فیصلے کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ دریں اثناء نجد و حجاز پر مسلط آل سعود خاندان کے بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے آل خلیفی بادشاہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ وزیر اعظم کی برطرفی سے بازرہیں۔ آل سعود کے حکام نے حمد بن عیسی کو دھمکی دی ہے کہ اگر انھوں نے وزیر اعظم کو برطرف کیا تو وہ بحرین میں مزید افواج روانہ کریں گے؛ آل سعود کی اس دھمکی کو بحرین پر مکمل سعودی قبضے کی دھمکی سمجھا گیا ہے۔علی الفَرَج نے کہا: بحرین میں جزیرہ نما شیلڈ کے گماشتوں کے لمبے قیام سے معلوم ہوتا ہے کہ آل خلیفہ خاندان عوام کی صداؤں کو کچلنے کے لئے ہر دم تیار ہے اور یہ حکمران اس کے بعد عوام کو کسی قسم کی اجتماع اور ریلی کی اجازت نہیں دیں گے اور یہ کہ آل خلیفی حکومت عوامی مطالبات پوری کرنے کا ارادہ ہی نہیں رکھتی۔ ذرائع کے مطابق حمد بن عیسی نے بحرینی عوام کو بعض حقوق دینے کا فیصلہ کیا تھا لیکن سعودی نواز وزیر اعظم کسی صورت میں بھی بحرینی عوام کو ان کے بنیادی حقوق دینے کے حق میں نہیں ہیں اور یہ بات ان دو کے دوران اختلافات کا باعث بنی ہوئی ہے۔
حال ہی میں وزیر اعظم نے پاکستانی شہریت یافتگان سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ "بحریں میں وہی ہوتا ہے جو میں کہتا ہوں" جس سے یہ مطلب لیا گیا تھا کہ وزیر اعظم نے بادشاہ کے اختیارات کو چیلنج کیا ہے۔ علی الفَرَج نے کہا کہ ذرائع ابلاغ پر پابندی اور بحرین سے بیرونی نامہ نگاروں کی جلاوطنی آل خلیفہ کی جانب سے مظاہرین کی سرکوبی، سیاستدانوں، اپوزیشن راہنماؤں اور کارکنوں، ڈاکٹروں اور انجنئیروں کی اندھادھند گرفتاریوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوششوں کا حصہ ہے۔..........
/110
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز