30 اپریل 2011 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے کہا ہےکہ ایرانی قوم کو صلح و بھائی چارے کے مظہر کی حیثیت سے خلیج فارس کے نام کی پاسداری کرنی چاہیے۔

ابنا: صدر جناب احمدی نژاد نے آج خلیج فارس عالمی فیسٹیول کے نام اپنے پیغام میں اس فیسٹیول کو ایسا موقع قرار دیا ہے جس میں تاریخ تہذیب و تمدن میں ظلم و جور کے خلاف ایرانی اقدار اور اس کی قوم کی جدوجہد نیز آج اسلامی جمہوریہ ایران کے صلح، امن و عدالت اور بھائی چارے کے آفاقی پیغام سے دنیا کو آشنا کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نےامید ظاہر کی کہ اس فیسٹیول جیسے کام ملت ایران کے تشخص تاريخ اور درخشان دینی ثقافت کے دشمنوں کی مایوسی کا سبب بنتے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب صدر محمد رضا رحیمی نے کہا ہے کہ خلیج فارس کے نام کو بگاڑ کر اسکی جگہ دوسرا نام استعمال کرنا برطانیہ کی سازش ہے۔ نائب صدر نے خلیج فارس عالمی فیسٹیول کی اختتامیہ تقریب میں خلیج فارس کی تاریخی حیثیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تین ہزار سال قبل قوم پارس ایران میں داخل ہوئي تھی اور سرزمیں پارسی کی بنیاد رکھی تھی۔ انہوں نے کہا اس زمانے سے لیکر آج تک اس سمندر کو خلیج فارس کہا جاتا ہے اور یہ ایرانی تہذیب و تمدن کی علامت ہے۔ انہوں نےکہا کہ دنیا کے ممتاز جفرافیہ دانوں نے خلیج فارس کا نام ذکرکیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم عظیم تہذیب و تمدن کی حامل ہے لیکن آج سے کچھ عرصہ قبل وجود میں آنے والے ممالک جن کی کوئي تہذیب و تمدن بھی نہیں ہے وہ شیطنت کر رہے ہیں اور ایرانی قوم کی اس تہذیبی میرات کا نام بگاڑ کر استعمال کر رہے ہيں۔ یاد رہے کہ خلیج فارس بین الاقوامی فیسٹیول ساحلی شہر بندر عباس میں منعقد ہوا تھا۔
ادھر خلیج فارس کے نام سے مزین پرچم خلیج فارس میں بچھایا گیا ہے۔ یہ عظیم پرچم خلیج فارس کے قومی دن کی مناسبت سےلہرایا گيا ہے۔ خلیج فارس میں اس عظیم پرچم کو لہرانے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی شپنگ کمپنیوں، پٹرولیم کمپنی کے تیل بردار جہازوں اور ماہی گيری کی کشتیوں، اور ایک ہیلی کاپٹر نیز اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ نے حصہ لیا ہے۔ اس پرچم کی لمبائي ستر میٹر اور چوڑائي چھے میٹر ہے اور اس پر دونوں طرف خلیج فارس کا نام لکھا ہوا ہے۔ جزیرہ خارک کے عوام اور حکام نے کشتیوں پرسوار ہوکر اس پرچم کو سلامی دی اور سمندر کے ہمیشہ خلیج فارس رہنے پرتاکید کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
169