26 اپریل 2011 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کےترجمان نے امریکی صدر کے اس الزام کا جواب دیا ہےکہ ایران شام کے امور میں مداخلت کررہا ہے۔

ابنا: رامیں مہمان پرست نے باراک اوباما کے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہ ایران شام کے امور میں مداخلت کررہا ہے کہا کہ وہائٹ ہاوس کے حکام کو ذمہ داری سے بیانات دینے چاہیں۔ مہمان پرست نے کہا کہ صدر اوبام کا بیان امریکی وزیرخارجہ کے بے بنیاد بیان ہی کی تکرار ہے اور اس طرح کے بے بنیاد الزامات کا مقصد ایران کے خلاف امریکہ کی نفسیاتی جنگ جاری رکھنا اور امریکہ کی توسیع پسند اور مداخلت کار حکومت کی جانب سے صیہونی حکومت کی بھرپور حمایت سے عالمی رائےعامہ کو منحرف کرنا ہے۔ اسلامی جہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہاکہ مختلف ملکوں کے داخلی امورمیں امریکہ کی مداحلت پسندانہ تاریخ اور فوجی موجودگي نیز قبضوں سے ساری دنیا واقف ہے۔ مہمان پرست نے کہا کہ آج بحرین، یمن، عراق اور افغانستان میں حریت پسند اور خودمختاری کی خواہاں قوموں کا خون امریکی ہتھیاروں سے بہایا جارہا ہے۔ مہمان پرست نے صیہونی حکومت کے جرائم پر امریکہ کی حمایت، مصر اور تیونس کے سابق ڈکٹیٹروں کی حمایت اور بحرین میں بے گناہ افراد کےقتل عام کی حمایت کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہاکہ وہائٹ ہاوس کے حکام کا یہ رویہ ان کی منافقت اور دوغلی پالیسیوں کا ثبوت ہے۔ مہمان پرست نے کہا کہ علاقائی قومیں امریکہ کےصحافتی کھیل کےفریب میں نہيں آئيں گي۔ درایں اثنا اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کےترجمان مہمان پرست نے کویت کےحکام سےکہا ہے کہ غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے پرہیز کریں۔ یادرہے کویت کے وزیرخارجہ نے العربیہ چینل سے انٹرویو میں ایک بار پھر اسلامی جہموریہ ایران پر جاسوس نیٹ ورک سے جڑے رہنے اور دیگر ملکوں میں مداخلت کرنے کے الزامات لگائےہیں۔ رامین مہمان پرست نے آج کویت کے وزیرخارجہ کے بے بنیاد الزامات کا جواب دیتےہوئے کہا کہ کویت کے وزیرخارجہ کے بیانات سے علاقے کے مفادات کو نقصان پہنچے گا۔ مہمان پرست نے کہا کہ توقع کی جاتی ہےکہ علاقائي ممالک کے حکام جلد بازی میں دئےجانے اور غیر ذمہ دارانہ بیانات سے پرہیز کریں گے جن سے علاقے کی مشکلات حل کرنےمیں کوئي فائدہ نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکام کو دور اندیشی پرمبنی اور حکیمانہ پالیسیاں اپنانی چاہیں۔ قابل ذکر ہے اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام نے بارہا تاکید کی ہےکہ کویت سمیت بعض عرب ملکوں کے حکام امریکہ کی پیروی کرتےہوئے اور دوسروں کو اپنے مسائل کاذمہ دار بتاتےہوئے عوامی تحریکوں کی بناپر رائے عامہ کے دباو سے بچنے کے لئے ایران پر الزامات لگارہے ہیں۔