اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ نے رجا نیوز کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ مشہور وہابی مفتی اور آل سعود کی نہایت قریبی مفتی شیخ محمد العریفی نے فتوی دیا ہے کہ باپ کو ایک مقام پر اپنی بیٹی کے ساتھ تنہا نہیں رہنا چاہئے کیوں کہ ممکن ہے کہ باپ اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو اور بیٹی پر جنسی زیادتی کا ارتکاب کرے۔ (نعوذ باللہ)حال ہی میں عوامی بیداری کے بعد اس طرح کے فتووں کے سامنے سعودی عرب میں بھی خاموشی اختیار نہیں کی جاتی چنانچہ یہ فتوی جاری ہوتے ہی شیخ العریفی کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اور تو اور کئی وہابی مفتیوں نے بھی العریفی پر سخت تنقید کی ہے اور سعودی عرب سمیت عرب ممالک کے ذرائع ابلاغ نے بھی اس فتوے پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب کے بعض حلقوں کی رائے میں شیخ محمد العریفی ایک ایسا شخص ہے جو شہرت حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی کرسکتا ہے اور کچھ بھی کرسکتا ہے۔ اس شخص نے شہرت حاصل کرنے کے لئے فوجی وردی پہن کر شمالی یمن پر سعودی جارحیت میں شرکت کی اور اپنی تصویریں بنوا کر انٹرنیٹ پر شائع کروادیں اور پھر بھی صرف شہرت حاصل کرنے کے لئے کئی بار آیت اللہ العظمی سیستانی کی توہین کی اور عراقی علماء کے بارے میں ہرزہ سرائی کی۔ بہرحال وہابی مفتیوں سے اتنی ہی توقع رکھی جاسکتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110