23 اپریل 2011 - 19:30

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکہ کے ڈرون میں حملے جو جمعہ کی علی الصباح ہوا پچیس افراد مارے گئے مرنےوالوں میں خواتین و بچے بھی شامل ہيں قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ حملہ ایک ایسے وقت ہوا جب امریکی مسلح افواج کے سربراہ مائیک مولن اسلام آباد میں تھے اور پاکستانی فوج کی قیادت ان سے اس بات کا مطالبہ کررہی تھی کہ پاکستان پر امریکی ڈرون حملے بند ہونے چاہئيں رواں سال میں پاکستان کے شمالی وزیرستان میں امریکہ کے بیس سے زائد ڈرون حملے ہوچکے ہيں گذشتہ برس بھی امریکہ نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سیکڑوں بار ڈرون حملے کئے تھے ۔

ابنا: پاکستان کی سرزمین پر امریکی جارحیت پر ملک کے عوام میں شدید غم وغصہ پایا جارہا ہے۔ اس مسئلہ پر اب تک بارہا ملک کے مختلف علاقوں میں امریکہ مخالف مظاہرے بھی ہوچکے ہيں مگر امریکی حکام بظاہر پاکستان جیسے آزاد ملک کے آزاد عوام کی بات اور ان کے مطالبات سننے کے لئے تیار نہيں ہيں۔ اسی لئے اب پاکستانی عوام کا دباؤ حکومت پاکستان اور فوج پر بھی بڑھتا جارہا ہے غالبا اسی بات کے پیش نظر ہی جب پاکستانی فوجی قیادت نے امریکی فوجی قیادت سے ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ سنجیدگی سے اٹھایا تو اب ایسی بھی غیر مصدقہ خبریں مل رہی ہیں امریکی انتظامیہ پاکستان کو اسی ّ ڈرون طیارے دینے پر تیار ہوگئی ہے امریکی حکام کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ یہ ڈرون طیارے پاکستان کو امریکہ کی طرف سے دی جانے والی فوجی مدد کا ہی حصہ ہے ۔ پاکستان میں جب امریکہ کے خلاف جذبات شدت اختیار کرتے جارہے ہيں تو امریکی انتظامیہ کی طرف سے ڈرون طیارے پاکستان کو دینے کا اخباری اعلان ایک سیاسی کھیل تصور کیا جارہا ہے تاکہ کسی طرح سے عوامی دباؤ کو وقتی طور پر کم کیا جائے ۔کیونکہ ڈرون حملوں کے خلاف کل تیئس اپریل کو پشاور میں ایک بڑا دھرنا دیا جارہا ہے جس میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملے بند کرنے کا اور امریکی مداخلت کے خاتمے کا مطالبہ کیا جائے گا ۔اطلاعات کے مطابق پاکستان کے مختلف علاقوں سے لوگ اس دھرنے میں شرکت کے لئے پشاور روانہ ہوچکے ہيں اور گاڑیوں کا ایک ناختم ہونے والا سلسلہ ہے جو پشاور کی طرف رواں دواں ہے پاکستان پر ہونےوالے امریکی ڈرون حملے عوامی احتجاج اور پھر امریکہ کی طرف سے پاکستان کو ڈرون طیارے دئے جانے کے اعلان جیسے معاملات پر تبصرہ کررہے ہيں پاکستان کے سینئر صحافی غلام اکبر۔ یہاں یہ بتادیں کہ غلام اکبر اس قافلے میں شامل ہیں جو اسلام آباد سے پشاور کے لئے ہوا ہے ۔ ان کا کہنا ہے ۔۔۔۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ جوماضی میں پاکستان کے اس مطالبے کو کہ ڈرون طیارے اس کو دئے جائیں تاکہ دہشت گردوں کا وہ خود مقابلہ کرے مسترد کرتارہا ہے تو اب کیسے اس بات پر راضي ہوگيا؟ آیا امریکہ ڈرون طیارے دینے کے اپنے وعدے پر عمل کرے گا ؟ اس سے پہلے بھی امریکہ نے امریکی جنگی طیارے پاکستان کو دینے میں بیت ہی لیت و لعل سے کام لیا تھا جبکہ ان طیاروں کی رقم بھی پیشگی ادا کی جاچکی تھی ۔ لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کا اپنے اس فیصلے میں بھی ایک طرح کا سیاسی کھیل ہے اس کو شاید اب پاکستان میں حالات کی سنگینی کا علم ہوگیا ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کے معاملے اور پھر مسلسل ڈرون حملوں کے تعلق سے اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات کافی کشیدہ ہوچکے ہيں جس کا اعتراف خود مائیک مولن نے بھی اپنے حالیہ دورہ اسلام آباد میں کیا ہے ۔پاکستان کے عوام کا کہنا ہے کہ امریکہ کے اس طرح کے جارحانہ اقدامات سے ملک کی آزادی اور ارضی سالمیت خطرے میں پڑ گئی ہے اس کے علاوہ خود پاکستانی حکومت کے لئے مسائل پیدا ہوتے جارہے تھے پاکستان میں حکومتی اور صحافتی سبھی حلقوں کا یہی کہنا ہے کہ دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ڈرون حملوں کا ہی ردعمل ہے اور اس سے پورا ملک بدامنی کا شکار ہوتا جارہا ہے ان حلقوں کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنے اس طرح کے اقدامات سے کئی مقاصد حاصل کرنا چاہتاہے اول یہ کہ وہ ڈرون حملے کرکے امریکی رائے عامہ کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ ابھی بھی جاری ہے اور القاعدہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے دوسری طرف اپنے ان حملوں کے ذریعہ وہ پاکستان کے قبائلی باشندوں کے جذبات کو اکسا کر پاکستان کے اندر خود کش حملوں میں تیزی لارہا ہے اور اس بہانے سے وہ علاقے میں اپنی موجودگی کو جواز بخشنا چاہتا ہے ۔ جہاں تک پاکستان کے لئے امریکہ مالی اور فوجی امداد کی بات ہے تو امریکہ نے اب تک مالی اور فوجی اعتبار سے جن امداد کا وعدہ کیا ہے اس کے بارے میں خود پاکستانی حکام اور ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اونٹ کے منہ میں زیرے کی مانند ہے ۔ کیونکہ پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اب سے تقریبا ڈیڑھ سال قبل یہ کہہ چکے تھے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو مالی اعتبار سے چالیس ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا ہے ۔ جبکہ پورے ملک ميں ہونےوالے دہشت گردانہ حملوں میں جو ہزاروں لوگوں کی جانیں گئیں ان کی کسی بھی طرح کی قیمت ہی نہیں لگائی جاسکتی ۔ امریکہ کی انہی شعبدہ بازیوں اور جارحانہ اقدامات سے تنگ آکر پاکستان کے شہریوں نے ایک بار پھر امریکہ مخالف تحریک چلانے کا پروگرام بنایا ہے اور اس بار دھرنے کے شرکا بہت ہی پرعزم نظر آرہے ہيں ان کا کہنا ہے کہ جب تک امریکہ کو اس خطے باہر نہيں نکال دیں گے وہ اس وقت تک اپنی تحریک جاری رکھیں گے اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ بہادر جو ہرطرف سے خاص طور پر شمالی افریقہ اور مشرق وسطی میں عوام کی مار کھا چکا ہے پاکستان میں حالات کا کس طرح سامنا کرتا ہے ۔