13 اپریل 2011 - 19:30

ایک دل جلے کی یادداشت

بسم رب الشهداء و الصدیقین

 پرچم بنام مولا حسین (ع) ہمیشہ سربلند و سرفراز رہے گا


شہدائے ملت مظلوم بحرین کو ہمارے دکھی دلوں کا سلام

پروردگار عالم !!!تیری بارگاہ میں دست بدعا ہیں تمام دشمنان اسلام خصوصا شیعیان علی کے دشمنوں کو دنیا اور آخرت میں رسوا‏ئی عطا فرما

 

اپنی آخری حجت حضرت العصر والزمان عج کے ظھور میں تعجیل فرما‎

حمد بن عیسی آل خلیفہ اپنے کرائے کے قاتل افسروں کے ساتھ اپنے منحوس چہرے پر فرعونی مسکراہٹ سجائے ہوئے 

اے اسلام دشمن امریکہ اور صہیونیو کے آلہ کار خائن آل سعود کے نمک خوارو!!! تم کو بحرین کے مظلوم مسلمانوں کے قتل کا اختیار کس نے دیا؟؟؟؟

دیکھئے پاکستان لیبیا کے بارے میں کیا رائے رکھتی ہے اور پھر کس منہ سے آل سعود اور آل خلیفہ کی نہ صرف حمایت کرتی ہے بلکہ کرا‏ئے کے ہزاروں قاتل بھی ان کی خدمت میں پیش کرکے نہتے مظاہرین کے قتل میں ان کا ہاتھ بٹاتی ہے؟؟؟؟

واہ ! فوج سے اپنی سنبھل نہیں رہی آئے دن اپنی ہی سرزمین پر اپنے ہی پالے پوسے وہابیوں کے ہاتھوں لاوارثوں کی طرح مارے جارہے ہیں  چلے ہیںدوسرے ملک میں اہم تنصیبات کی حفاظت کے لئے؟


کیا یہ اختیار جاہلوں کے پیشوا اور صہیونزم کی مقدس گائے سے لیا؟؟؟ 

یا یہ اختیاران امریکی ڈالروں اورسعودی ریالوں کی وجہ سے حاصل ہوا؟ 

روزنامه جنگ 29 مارچ 2011 کی خبر دیکھئے

اسلام ٹائمز کے نمائندے کو نام نہ لینے کی شرط پر پاکستان آرمی کے ایک باخبر ذریعے نے بتایا کہ پاکستان نے 20 ہزار فوجیوں پر مشتمل دو دستوں کو سعودی عرب بھیجنے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔
یہ فوجی دستے سعودی عرب جانے کیلئے پوری طرح تیار کھڑے ہیں۔

شہزادہ بندر بن سلطان کے بعد بحرین کے وزیر خارجہ شیخ خالد الخلیفہ تقریبا ایک ہفتہ قبل پاکستان آئے اور پاکستانی حکام کے ساتھ اپنی ملاقات میں بحرین نیشنل گارڈز کیلئے سیکڑوں پاکستانی شہریوں کی بھرتی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
پاکستان آرمی کے عہدیداروں نے سعودی عرب میں حاضر سروس فوجیوں کے دو بریگیڈ بھیجنے جبکہ بحرین کیلئے ریٹائر فوجی اور عام افراد کو بھرتی کرنے پر اپنی رضامندی کا اظہار کیا ہے۔
[خدشہ ہے کہ سعودی عرب پاکستانی فوجی دستوں کو بحرین، یمن اور مستقبل قریب میں دیگر خلیجی ممالک کے عوام کو کچلنے کے لئے استعمال کرے گا]۔
دوسری طرف ملک کی مذہبی شخصیات اور سیاسی رہنماوں نے پاکستان سے سیکورٹی فورسز کے بحرین بھیجے جانے کی شدید مخالفت کی ہے۔
ایک پاکستانی صحافی جنکے پاکستان آرمی کے عہدیداروں سے گہرے تعلقات ہیں نے بتایا کہ بحرین کیلئے بھرتیاں گذشتہ ماہ مارچ 2011 میں پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخواہ اور کراچی کے مختلف علاقوں میں انجام پا چکی ہیں جس کے نتیجے میں اب تک 1 ہزار سے زیادہ افراد کو بحرین نیشنل گارڈز کیلئے بھرتی کیا جا چکا ہے۔
اس حقیقت کے باوجود کہ بحرین میں گذشتہ کئی عشروں سے شیعہ اور سنی مسلمان ایک پر امن ماحول میں ایک دوسرے کے ساتھ رہتے آئے ہیں پاکستان میں بحرین نیشنل گارڈز کیلئے انجام پانے والی بھرتیوں میں پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ کسی شیعہ پاکستانی شہری کو بھرتی نہ کیا جائے۔ دوسری طرف بحرین میں آل خلیفہ کی برکناری کیلئے ہونے والے عوامی مظاہروں میں سنی باشندے شیعہ شہریوں کے شانہ بشانہ شریک ہیں۔
بحرین نیشنل گارڈز کیلئے بھرتی ہونے والے افراد کو یہ پیشکش بھی کی گئی ہے کہ انہیں بحرینی شہریت بھی دی جائے گی۔
بحرین نے آرمی اور پولیس میں سروس کرنے والے ایسے پاکستانی شہریوں کو ـ جو سنی مسلک سے تعلق رکھتے تھے اور گذشتہ 25 سال سے وہاں پر مقیم تھے بڑی تعداد میں ـ بحرینی شہریت سے نوازا ہے۔
اوورسیز پاکستانی فاونڈیشن کے اس عہدیدار نے مزید بتایا کہ بحرین میں مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد بحرین آرمی اور پولیس میں سروس کرتی ہے۔
ان کے مطابق بحرین نیشنل گارڈز میں 7 ہزار پاکستانی باشندے کام کرتے ہیں۔ اسی طرح بحرین آرمی میں بھی 3 ہزار پاکستانی ہیں۔
بحرینی حکومت کے ساتھ فوجی فاونڈیشن پاکستان کا تعاون:
بحرین میں سیاسی کشمکش شروع ہونے کے بعد پاکستان آرمی اور نیوی کے ریٹائر افراد کی فلاح و بہبود کے ادارے فوجی فاونڈیشن نے بڑی تعداد میں افراد کو بحرین نیشنل گارڈز کیلئے بھرتی کیا ہے۔
بعض ذرائع کے مطابق بھرتی کئے گئے افراد کی تعداد 800 اور کچھ دوسرے ذرائع کے مطابق 1 ہزار تک ہے۔
فوجی فاونڈیشن کی جانب سے بھرتی کے اشتہار پاکستان کے اردو زبان میں شائع ہونے والے اخباروں میں تقریبا 3 ہفتے قبل دیئے گئے تھے۔
بھرتی ہونے والے افراد کو فوری طور پر تقریبا 1 لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اسکے علاوہ ماہانہ تنخواہ اور مفت رہائش [مفت کھانے] اور میڈیکل سہولیات کا بھی وعدہ کیا گیا ہے۔
اسلام ٹائمز کے نمائندے کے مطابق فوجی فاونڈیشن کے اہلکار بھرتی کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھتے ہیں کہ ایسے افراد کو بھرتی کریں جن کا تعلق شدت پسند تکفیری اور سلفی گروہوں سے ہو جو شیعہ مسلک کے ساتھ دیرینہ دشمنی کے حامل ہیں۔
دوسری طرف سے پاکستان آرمی نے بھی اگرچہ اعلان نہیں کیا لیکن درپردہ بحرین کیلئے کی جانے والی بھرتیوں کی حمایت کر رہی ہے۔
[ابنا کو بعض ذرائع نے بتایا ہے کہ بلوچستان میں فرنٹئیر کور سے باقاعدہ کمانڈوز کو مختلف دستوں میں تقسیم منظم کرکے اور خصوصی تربیت دے کر بحرین روانہ کیا گیا اور جن شیعہ اہلکاروں نے نام لکھوائے تھے انہیں ان دستوں میں بھرتی کرنے سے انکار کیا گیا اور وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ "یہ دستے شیعوں کا قلع قمع کرنے کے لئے جارہے ہیں تم جاکر وہاں کیا کروگے؟"]
رپورٹ کے مطابق پاکستان آرمی کے سعودی عرب اور بحرین حکومتوں کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔
بحرین میں مقیم پاکستانیوں کے دوسرے مشاغل:
بحرین میں مقیم پاکستانی شہری سیکورٹی فورسز میں سروس کرنے کے علاوہ دوسرے کاموں میں بھی مشغول ہیں جیسے ککنگ، ڈرائیونگ، مزدوری، تجارت وغیرہ۔
اوورسیز پاکستانی فاونڈیشن کے عہدیدار کے مطابق بحرین کی سیکورٹی فورسز میں شامل پاکستانی شہری شدید خطرات سے دوچار ہیں کیونکہ بحرین نیشنل گارڈز کے عہدیدار مظاہرین سے مقابلہ کرنے کیلئے انہیں سب سے آگے رکھتے ہیں۔

- تنگ آمد بجنگ آمد ...کیا انتفاضہ شروع ہوگا ...؟

- جارحین و غاصبین کے ظلم و جبر کا مقابلہ؛ بحرین میں "جیش المہدی" کی تشکیل

- بحرینی انقلابی: سعودی مداخلت مزید قابل برداشت نہيں ہے

بحرین میں آل خلیفہ کی ڈوبتی کشتی اور حکومت پاکستان کا کردار

قابل ذکر ہے کہ بحرین کے عوام نہتے ہیں اور وہاں کوئی لڑائی نہیں ہورہی ہے وہاں کوئی بغاوت نہیں ہے، وہاں کوئی بھی مسلح گروپ نہیں ہے بلکہ عوام صرف اپنے جائز مطالبات کے لئے مظاہرے کرتے ہیں اور ان کے پاس بحرین کا ہی پرچم ہوتا ہے اور ان کے پاس سرکاری دستوں کا مقابلہ کرنے کے لئے کوئی ہتھیار نہیں ہوتا۔ بحرینی عوام لڑنے کا ارادہ ہی نہیں رکھتے اور ان کے نہتے پن کا حال یہ ہے کہ اگر ایک سو مسلح پولیس والے اس ملک میں موجود ہوں تو وہ آرام سے ان کے جلسے جلوسوں کو مینیج کرسکتے ہیں لیکن آل خلیفہ خاندان نے قتل عام کا پروگرام بنایا ہے اور حکومت پاکستان چار تکون کے عوض آل خلیفہ جیسے صہیونیوں کے غلام کو بچانے کے لئے اپنے فوجی بھیج رہی ہے یا فوجی بھرتی کررہی ہے جنہیں بہر حال قوموں کی عدالت میں پیش ہونا پڑے گا۔