ابنا: اس موقع پر دنیا کے مختلف ملکوں کے سابق سینئر سفارتکاروں اور دانشوروں نے اپنے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ مغرب کو چاہئے کہ وہ ایران کے ایٹمی حق کو تسلیم کرے اورمغرب کے پاس اس کے سوا کوئي چارہ بھی نہيں ہے۔20 فروردین مطابق 9 اپریل کا دن ایران میں ایٹمی ٹیکنا لوجی کے قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے، یہ وہ دن ہے جب اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے مشہد مقدس میں منعقدہ ایک پر وقار تقریب میں دنیاوالوں کو یہ خبر سنائی کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی کی ٹیکنالوجی حاصل کرلی ہے ایران میں بنائے گئے سینٹریفیوجز کے ذریعے یورینیم کی افزودگی کا سسٹم مکمل کرلیا گیا ہے اوراس اعلان کے ساتھ ہی اس دن کو ایران کی ایٹمی ٹیکنالوجی کا قومی دن بھی قرار دیا گیا۔ یوں ایران دنیا کے ایٹمی کلب میں شامل ہوگیا اوراس کے ٹھیک ایک سال کے بعد یہ بھی اعلان کیا گیا کہ ایران نے صنعتی میدانوں میں ایٹمی ایندھن کی پیداوارکی صلاحیت بھی حاصل کرلی ہے۔ صدرجناب احمد ی نژاد نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی صنعتی میدان میں ایٹمی ٹیکنالوجی تک رسائی انتہائی شاندار حیرت انگیزکارنامہ ہے انھوں نے کہا کہ ایران کا ایٹمی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کرلینے کا مطلب یہ ہے کہ ایران نے اس طویل راستے پرقدم بڑھادیا ہے جواسے دنیامیں ایک بلند وبالا مقام تک لے جائے گا ۔انھوں نےکہا کہ ایران کے دشمنوں کی طرف سے پابندیاں اوردوسری طرف سے ایرانی جوانوں کی تخلیقی صلاحیت واستعداد ایٹمی ٹیکنالوجی کے میدان میں پیشرفت وترقی کا باعث بنی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ملت ایران نے یہ ساری ترقی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے لگائی گئی اقتصادی پابندیوں اور بائیکاٹ کے نتیجے میں ہی حاصل کی ہے اور ملت ایران نے امام خمینی رح کے اس فرمان کو عملی جامہ پہنایا کہ ہمیں اپنی ضرورت کی چیزیں دوسروں سے خریدنے کی فکر میں نہیں رہنا چاہیے بلکہ ہمیں اس بات کی فکر ہونی چاہیے کہ اپنی ضرورت کی ہر چیز خود تیار کریں۔ایٹمی ٹکنا لوجی کے میدان میں کامیابی کے علاوہ ملت ایران جو کبھی معمولی ہتھیار اور فاضل پرزہ جات کے لئے امریکہ اور مغرب کی محتاج تھی آج خود کفیل ہوچکی ہے اور خلائی میدان میں قدم رکھ کر اس میدان میں بھی مغرب کی اجارہ داری کو عملا ختم کرچکی ہے ۔اس سلسلے میں ایران کے خلائی ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ امید نامی سٹلائٹ فضامیں روانہ کرکے اسلامی جمہوریہ ایران خلائی کلب کے چند گنے چنے ملکوں میں شامل ہوگیا ہے ۔اور بلا شبہ ایران کے سٹلائٹ کی فضامیں کامیاب روانگی پورے عالم اسلام کی کامیابی ہے۔ باوجود اس کے کہ خلائی ٹیکنالوجی پرصرف بعض مغربی ملکوں کی اجارہ داری تھی اورخلائی کلب میں صرف چند ممالک ہی شامل تھے ایران نے یہ کارنامہ سرانجام دے کرخود کوان چند ملکوں کی صف میں لاکھڑا کیا ہے اوردنیا کے بڑے بڑے سائنسداں اسلامی جمہوریہ ایران کی اس شاندارکامیابی کا اعتراف کررہے ہيں۔دوسری جانب اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ نے نئي نسل کے بحری جنگي جہاز بنانےمیں کامیابی حاصل کرلی ہے۔اس سلسلے میں جماران ڈسٹرائر کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے ۔ یہ بڑا جنگي بحری جہاز ایرانی ماہرین کی محنت کا نتیجہ ہے اور اس پر ہیلی پیڈ کے علاوہ سوکے قریب جدید ترین آلات بھی نصب کئے گئے۔ یہ ڈسٹرائير فضائي، سطح سمندر اور پانی کی تہہ میں حملے اور دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے ۔اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع بریگیڈیر جنرل احمد وحیدی نے کہا ہےکہ مستقبل قریب میں کروز میزائیلوں کی تیاری کی پہلے ہے خبر دے چکے ہیں ۔کروز میزائیل نیزسمندری ، خلائي ، الیکٹرو آپٹک اور دوسرے شعبوں سے متعلق ایرانی وزارت دفاع کا تیار کردہ اسلحہ اور فوجی سازو سامان رواں ہجری شمسی سال کے دوران ایران کی مسلح افواج کی تحویل میں دے دیا جاۓ گا۔بہر حال آج ملت ایران ایٹمی ٹیکنالوجی کا قومی دن ایک ایسے وقت منارہی ہے کہ جب خطے کی اقوام بیرونی طاقتوں سے عدم وابستگی کا نتیجہ ایران کی ترقی و پیشرفت کی صورت میں دیکھ رہی ہیں اور اس نتیجے پر پہنچ چکی ہیں کہ ان کی ترقی وپیشرفت میں سب سے بڑی رکاؤٹ خود بڑی طاقتیں ہیں جو اپنی سیاسی فوجی اور حتی علمی برتری کی خاطر قوموں کو اپنا محکوم بنا کر رکھے ہوئے ہیں اور جبتک علاقے میں ان کی پٹھو حکومتیں اور ڈکٹیٹر مسلط رہیں گے ترقی و پیشرفت کا تصور محال ہے ۔ حقیقت تو یہ کہ علاقے کے بعض عرب ممالک جو معاشی لحاظ سے انتہائی خوشحال نظرآتے ہیں یورپ اور امریکہ کے لئے اشیا صرف کی منڈی بنے ہوئے ہیں اور اور یورپیوں کے بقول بلیک گولڈ کے عوض خوردو خوراک اور سامان تعیشات کے حصول پر خوش اور مطمئن ہیں اور بظاہر لگژری زندگی گذار رہے ہیں یہ وہ صورتحال ہے جس سے 30 برس قبل ملت ایران دوچارتھی۔لیکن اب الحمدل للہ صورتحال اس کے برعکس اور یہ سب کچھ اسلامی انقلاب کی بدولت ہے اور قوموں نے بھی اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے چنانچہ شمالی افریقہ سے لیکر عرب ممالک تک بیداری کا احساس کیا جارہا ہے اوراس بیداری کا خاصہ یہ کہ اس میں اسلامی عنصر نمایاں ہے کہ جس نے امریکہ اور مغرب والوں اور خطے کی ڈکٹیر حکومتوں کو تشویش اور خطرے میں ڈالدیا ہے ۔ یہ وجہ کہ اپنے بچاؤ کے لئے اوچھے ہتکنڈوں پر اتر آئے ہیں۔لیکن یہ صدی، رہبر انقلاب اسلامی کے بقول اسلام کی صدی ہے اور اسلامی مشرق وسطی تشکیل پارہا ہے جس میں امریکہ اور اسرائیل کی کوئی جگہ نہیں ہوگی ۔
............
/110