4 اپریل 2011 - 19:30

دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے فعال ہونے کے بہانے یمن پر چڑھائی کے امریکی اشارے ملنے کی بعد یمن کی سیکورٹی فورسز نے جنوبی شہر تعز میں مظاہرین پر فائرنگ کی ۔

ابنا: عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ سیکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورسز یمنی حکومت کے کارندوں نے تعز شہر میں مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کی ۔فائرنگ اور تشدد کے ذریعے مظاہرین کو کچلنے کا یہ واقعہ گذشتہ روز کے المناک واقعے کے صرف ایک دن بعد پیش آیا ہے کہ جس میں سیکورٹی فورسز نےفائرنگ کرکے کم از کم سترہ یمنی شہریوں کو ہلاک کردیا تھا۔ گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں یمن کے مختلف شہروں میں مظاہروں کے دوران سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں متعدد عام شہری مارے جاچکے ہيں۔مبصرین کا کہنا ہی کہ عوامی تحریک کو کچلنے کے لئے یمنی سیکورٹی فورسز کے اقدامات میں تیزی اور شدت امریکہ کی جانب سے سبز جھنڈی دکھائے جانے کے بعد آئی ہے۔دوسری جانب بحرین کی سیکورٹی فورسز نے بھی غیر ملکی فوجوں کے ساتھ مل کر منامہ کے شمال مغربی علاقوں پر دھوا بولدیا ہے ۔العالم کی رپورٹ کے مطابق بحرین کی سیکورٹی فورسز نے غیرملکی فوجوں کے ساتھ ملکر بنی جمرہ نامی قصبے پر حملہ کیا اس حملے میں متعدد رہائشی مکانات کو منہدم کردیا۔ بنی جمرہ قصبے میں بحرینی اور غیرملکی فوجوں کے حملے میں عام شہریوں کی املاک اور گاڑیوں کو بھی بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔درایں اثنا بحرین کے ہزاروں شہریوں نے حسن جاسم مکی نامی اس نوجوان کے جلوس جنازہ میں شرکت کی جسے بحرین کی سیکورٹی فورسز نے زیرحراست ایذائيں دے کر شہید کردیا تھا۔ اس جلوس جنازہ کے شرکاء نے اپنے مطالبات کی تکمیل تک مظاہرے جاری رکھنے کے عزم کا ایک بار پھر اعلان کیا۔جلوس جنازہ کے شرکا نے بحرین کے امور میں سعودی عرب کی مداخلت کی مذمت کرتے ہوئے اپنے ملک سے غیرملکی فوجوں کے نکل جانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ آل خلیفہ کی شاہی حکومت کی سرنگونی تک اپنا پرامن احتجاج جاری رکھیں گے۔مظاہریں پر تشدد اور عوامی تحریکوں کو کچلنے کے لئے امریکہ اور مغرب ممالک جو دوہری پالیسی اپنائے ہوئے ہیں اس پر تنقید کرتے ہوئے صدر ڈکٹر احمدی نژادنے اقوام متحدہ کو اپنا کردار نبھانے کے دعوت دی ہے ۔ امریکہ اور یورپ کی مداخلت کو ختم کرانے کے لئے صدر جناب احمدی نژاد نےاقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون سے ٹیلی فونی گفتگو میں مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں جاری انقلابات کے دوران پیش آنےوالے حادثات پر افسوس اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل افہام و تفہیم اور بات چیت کی بنیاد پر موجودہ مسائل کے حل کے لئے اپنا تاریخی اورفیصلہ کن کردار ادا کریں تاکہ افغانستان اور عراق کے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے اس بات پرزوردیتے ہوئے کہ سلامتی کونسل، امریکہ اور بعض یورپی ملکوں کی بدنیتی کی بنا پر علاقے کے حالات کو صحیح طریقے سے بہتر بنانے کی توانائی نہيں رکھتی علاقے کے ملکوں میں بعض یورپی ملکوں اور امریکہ کی مداخلت پر کو تشویشناک اور صورتحال کے مزید پیچیدہ ہونے کا باعث قراردیا اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل سے کہا کہ وہ ان حکومتوں کی مداخلتوں کو روکنے کی پوری کوشش کریں۔اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہاکہ مغربی حکومتیں محض اپنے مفادات کی فکر میں ہیں اور بحرین و لیبیا میں مغربی حکومتوں کے دوہرے معیار اور مظلوم فلسطینیوں کے خلاف صہیونی حکومت کی وحشیانہ کاروائیوں کے مقابلے میں ان کی خاموشی نے ان کے متضاد رویوں کو ایک بار پھردنیا پر ثابت کردیا ہے۔بہرحال لیبیا میں امریکہ کی کھلی جارحیت اور بحرین میں سعودی عرب کی مداخلت کو حریت پسند اقوام اچھی نگاہ سے نہیں دیکھ رھے اور اس پر طرہ یہ کہ یہی ممالک ایران پر مداخلت کرنے کا الزام لگارہے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔/110