ابنا: موصولہ رپورٹ کے مطابق کراچی کے علاقے ناظم آباد میں آج صبح دہشتگردوں نے فائرنگ کر کے 29سالہ شیعہ نوجوان برکت علی کو شہید کر دیا۔عینی شاہدین نے شیعت نیوز کے نمائندے کو بتایا کہ شیعہ نوجوان برکت علی کو وہابی درندوں نے اس وقت دہشت گردی کا نشانہ بنایا جب وہ اپنے گھر سے نکل کر بھٹہ کالونی ناظم آباد میں اپنے دفتر میں جا رہے تھے۔واضح رہے کہ شہید ہونے والے شیعہ نوجوان برکت علی کا تعلق ماضی میں آئی ایس او پاکستان سے رہا ہے اور وہ آئی ایس او کراچی ڈویژن کے پریمئر کالج میں یونٹ جنرل سیکرٹری کے فرائض انجام دے چکے ہیں جبکہ تنظیم کے ذمہ داروں کاکہنا ہے کہ شہید برکت علی بھٹو کالونی میں اب بھی ویلفئر خدمات انجام دے رہے تھے۔شہید کی نماز جنازہ بھٹو کالونی میں ادا کی گئی جس کے بعد انھیں آہوں اور سسکیوں میں سپر ہایی وے پر قائم وادیٔ حسین علیہ السلام قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔یاد رہے کہ گذشتہ طویل عرصے سے شہر کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں درجنوں شیعہ نوجوانوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنا دیا گیا ہے تاہم پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اور حساس ادارے تاحال اصلی دہشت گردوں کو گرفتار کرنے میں ناکام رہے ہیں جبکہ ملک بھر میں ملت جعفریہ کے عمائدین کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے میں کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ملوث ہونے کے بارہا ثبوت سامنے آ چکے ہیں اور حال ہی میں وزیر داخلہ رحمن ملک نے باضابطہ طور پر اس حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے جس سے یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ ناصبی وہابی دہشت گرد گروہ امریکن دہشت گرد ادارے سی اائی اے سے مدد لیتے ہیں اور امریکی ایماء پر ملک میں امن و سکون کو خراب کرنے میں مصروف عمل ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110