20 مارچ 2011 - 20:30

بحرین کی الوفاق سوسائٹی کے رہنما شیخ علی سلمان نے کہاہے کہ بحرین کے شیعہ اس وقت تک گھروں کو واپس نہیں لوٹیں گے جب تک ان کے مطالبات کو تسلیم کر کے ان پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔

ابنا: اطلاعات کے مطابق شیخ سلمان نے یہ بات ایک غیر ملکی ٹی وی چینل کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہی۔ ان کاکہنا تھا کہ بحرینی شیعہ اپنے حقوق اور جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد کر رہے ہیں جسے کسی بھی ملک خواہ سعودی عرب ہو یا امریکا کی فوجیں کچل نہیں سکتیں۔انھوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ بحرین سے غیر ملکی فوجوں کو فوری واپس بلا لیا جائے بصورت دیگر حالات کشیدہ ہوتے چلے جائیں گے اور بحرین کے انقلابی اور بہادر عوام سعودی ٹینکوں اور ہیلی کاپٹروں سے نہیں ڈرتے بلکہ اس بات کامطالبہ کر تے ہیں کہ جب تک غیر ملکی فوجیں واپس نہیں جاتیں کسی بھی صورت جد وجہد ختم نہیں کی جائے گی اور اس جد وجہد کو ایک ہی صورت میں ختم کیا جائے گا کہ حکومت مطالبات تسلیم کرے اور جارح افواج بحرین سے نکل جائیں۔بحرینی رہنما کاکہنا تھا کہ ہم پر امن جد وجہد پر یقین رکھتے ہیں اور اسی پر کاربند ہیں لیکن غیر ملکی بالخصوص سعودی افواج بحرینی مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھا رہی ہیں جس کے سبب ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ انتفاضہ جاری رہے گا اور پر امن جد وجہد اسی وقت ختم ہو گی جب بحرین میں انقلاب رونما ہو۔واضح رہے کہ بحرین ٹی وی نے جمعہ کے روز بحرین میں ہونے والے عوامی مظاہروں پر سعودی ٹینکوں اور ہیلی کاپٹروں سمیت امارات کی افواج کو گولہ باری کرتے ہوئے بھی فلمایا تھا ،جبکہ بحرین کے وزیرخارجہ شیخ خالد بن احمد الخلیفہ نے ذرائع کو بتایا تھا کہ دو سے تین ممالک کی افواج حکومت مخالف مظاہرین کو کچلنے کے لئے بحرین میں موجود ہیں۔شیخ سلمان نے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بحرین حکومت نے چند شیعہ اور سنی جماعتوں کے رہنماؤں کو گرفتار کرنے کے بعد گفت وشنید کی دعوت دی ہے جسے عوام مسترد کر چکے ہیں۔ ان کاکہنا تھا کہ انقلابی جد وجہد میں اب تک 18 شیعہ انقلابی افراد رہنما شہیدہو چکے ہیں جبکہ سعودی جارح افواج کی دہشت گردیوں کے سبب ایک ہزار سے زائد شدید زخمی ہو چکے ہیں۔ایک عینی شاہد نے ذرائع کو بتایا ہے کہ سعودی جارح افواج شیعہ رہنماؤں کے گھروں کو نشانہ بنا رہی ہیں جبکہ شیعہ رہنماؤں کو گرفتار کرکے سعودی عرب لے جانے کے خدشات بھی منظر عام پر آئے ہیں۔ایک اور انقلابی رکن نے غیر ملکی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا ہے کہ آل سعود کے گماشتوں نے آدھی رات کے وات ایک شیعہ رہنما کے گھر پر چھاپہ مار کر انہیں گرفتار کر لیا جبکہ لوگ گمان کر رہے تھے کہ شیخ سلمان کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔بحرینی انقلابی تحریک کے رکن احمد ترک کا کہنا تھا کہ بحرین میں کوئی گلی، محلہ، علاقہ محفوظ نہیں کہ جہاں سعودی وہابی افواج پر امن اور نہتے لوگوں کو اپنی گولیوں کا نشانہ نہ بنا رہی ہوں۔ احمد ترک کاکہنا تھا کہ حد تو یہ ہے کہ اسپتال بھی سعودی وہابیوں کے حملوں سے محفوظ نہیں ہیں۔واضح رہے کہ بحرین میں شیعہ آبادی 85فیصد ہے جبکہ اہل سنت کی آبادی 10فیصد کے قریب ہے جن میں مٹھی بھر وہابی بھی ہیں اور آل خلیفہ خاندان سنی کے عنوان سے گذشتہ 200 برسوں سے غیر قانونی طور پر حکومت کر رہا ہے اور وہ سنیوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے سنیوں کی حمایت کے نعرے لگاتا رہتا ہے جبکہ وہ درحقیقت سنی اقلیت کا اہل تشیع سے بھی زیادہ، استحصال کررہا ہے اور انہیں تو بات کرنے پر بھی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے پڑتی ہیں اسی لئے آل خلیفہ کے خلاف شروع ہونے والے انقلاب میں سنی بھی برابر کے شریک ہیں۔یاد رہے کہ بحرینی انقلابیوں کا ایک اہم مطالبہ بیرون ملکی افراد کو شہریت دے کر آبادی کا توازن بگاڑنے کی آل خلیفہ کی کوششوں کا خاتمہ بھی ہے۔واضح رہے کہ 14فروری 2011ء سے شروع ہونے والی عوامی بیداری کی اس تحریک میں اب تک 18 انقلابی شہید جبکہ ایک ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

بشکریہ از شیعت نیوز

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110