ابنا: یہ مطالبہ وہ پرامن مظاہروں کے دوران کررہے تھے لیکن بحرین کی آل خلیفہ حکومت نے ان کے مطالبات کو تسلیم کرنے اور مسائل کو مذاکرات سے حل کرنے کے بجاۓ ان کی آواز کو طاقت کے ذریعے دبانا چاہا اور اس سلسلے میں اس حکومت نے نام نہاد خادم الحرمین حکومت سے فوجی مدد بھی طلب کر لی۔ اور امریکی وزیر جنگ کے دورۂ بحرین کے فورا بعد سعودی عرب کی حکومت نے بحرین کے مظاہرین پر تشدد میں اضافہ کرنے اور اپنے حقوق کی آواز بلند کرنے والے بحرینی عوام کو کچلنے کے لۓ اپنے تقریبا ایک ہزار فوجی بحرین میں روانہ کردیۓ۔ متحد عرب امارات بھی اس سلسلےمیں پیچھے نہیں رہا اس نے بھی بحرین کے عوام کی آواز کو دبانے کے لۓ اپنے پانچ سو فوجی اس ملک میں بھیج دیۓ ہیں۔ اور اب صورتحال یہ ہے کہ بحرین کے عوام پر جہاں بحرین کے فوجی تشدد کررہے ہیں وہیں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے فوجی بھی بحرینی عوام کی نسل کشی میں شریک ہیں۔ البتہ دنیا بھر میں بحرین میں غیر ملکی فوجیوں کی آمد اور بحرینی عوام پر روا رکھے جانے والے تشدد کی مذمت کی جارہی ہے ۔ جبکہ اس کے ساتھ ہی ساتھ بحرین کے عوام کی حمایت کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ آج دنیا کے مختلف ملکوں میں بحرینی عوام کے حق میں اور اس ملک میں غیر ملکی فوجیوں کی مداخلت کے خلاف جلوس نکالے گۓ ۔ ایران بھر میں نماز جمعہ کے بعد عظیم مظاہروں میں علاقے بالخصوص بحرین کے عوام کی حمایت کے ساتھ ساتھ بحرینی اور سعودی فوجیوں کےہاتھوں عوام کے قتل عام کی مذمت کی گئي۔ نمازیوں نے امریکہ ، صیہونی حکومت اور آل سعود کے خلاف نعرے لگائے۔مظاہرین نے بحرین میں سعودی حکومت کی فوجی مداخلت کی بھی مذمت کی۔ دریں اثناء سعودی عرب کے مختلف شہروں میں بھی عوام نے احتجاجی مظاہرے کرکے بحرین کے عوام کی حمایت کی ہے۔ مظاہرین نے سعودی فوجیوں کےہاتھوں بحرینی شہریوں کے قتل عام کی مذمت بھی کی۔مظاہرین نے پرزور مطالبہ کیا کہ بحرین کے لئے بھیجے گئے فوجیوں جلد از جلد واپس بلایا جائے۔ عراق میں بھی ہزاروں افراد نے مظاہرہ کرکے بحرین کے عوام کی حمایت کی ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بحرین کے بادشاہ سے ٹیلیفون پر گفتگومیں بحرین میں مظاہرین کے خلاف جاری تشدد کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قراردیا ہے اور اسپتالوں پر فوجیوں اور کرائے کے ایجنٹوں کے قبضے پرشدید تشویش کا اظہارکیا ہے۔ بہرحال اس میں شک نہیں کہ اپنے حقوق کے حصول کی جد جہد میں حتمی کامیابی بحرین کے عوام کو ہی ملے گي۔ کیونکہ قوموں کے مطالبات کونہ تو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ان کی آواز کو دبایا جاسکتا ہے۔ لگتا ہےکہ حالات بہت جلد بدلنے والے ہیں لیکن اگر آئندہ چند دنوں تک بحرین کے حالات اسی طرح جاری رہے تو امریکہ کو بہت سی چیزوں سے ہاتھ دھونا پڑے گا کیونکہ بحرین کے عوام یہ دیکھ رہےہیں کہ امریکہ بحرین میں اپنے بحری اڈے کو قائم رکھنے کےلئے ان کے خون کی ہولی کھیل سکتا ہے۔ بلاشبہ امریکی وزیرجنگ کا حالیہ دورہ بحرین موجودہ بحران کا پیش خیمہ ثابت ہوا ہے اور امریکہ ہی بحرین کے بحران کا ذمہ دار ہے اور امریکہ نے ہی سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کو ایسی سمت موڑا ہےکہ وہ بحرین کی قوم کا قتل عام کرکے امریکہ کے مفادات کا تحفظ کریں اور بحرینی قوم یہ کبھی فراموش نہیں کرپائےگي کہ سعودی عرب نے کن حالات میں اس پر بندوقیں تانی تھیں ۔البتہ سعودی عرب کی بندوقیں بھی بحرین کے عوام کو اپنے حقوق کے حصول سے روک نہیں سکیں گے کیونکہ آج سے بتیس برس قبل ایران میں رونما ہونے والے اسلامی انقلاب نے ثابت کردیا ہےکہ اگر قومیں اپنے حقوق کا دفاع کرنے کا ارادہ کرلیں تو بڑی سے بڑی طاقت بھی اس ارادے کو ناکام نہیں بناسکتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
20 مارچ 2011 - 20:30
News ID: 232585
بحرین کے مسلمان انقلابی عوام اپنی حکومت سے اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کررہے تھے۔