ابنا: ہندوستان کی قومی سلامتی کے امور کے مشیر شیو شنکر مینن نے اپنے دورہ تہران میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعلقات میں توسیع ہندوستان کی ترجیحات میں شمار ہوتی ہے کہا کہ ہندوستان ایران کے ساتھ تمام میدانوں میں اسٹریٹجک تعلقات برقرار کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔ ہندوستان کی قومی سلامتی کے امور کے مشیر نے کہا کہ ایران اور ہندوستان کے تعلقات سیاسی تعاون سے بالاتر دونوں اقوام کی تہذیب و تمدن سے مربوط ہيں اور دونوں ممالک دوطرفہ علاقائی اور بین الاقوامی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لئے بے شمار توانائیوں کے حامل ہیں ۔ شیوشنکر مینن نے اپنے دورہ تہران میں اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ، پارلیمنٹ کے اسپیکر ، وزیر خارجہ اور اعلی قومی سلامتی کونسل کے سکریٹری سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور علاقائی اور عالمی حالات پر تبادلہ خیال کیا ۔ ہندوستان اور ایران کے حکام نے ان ملاقاتوں میں دوطرفہ سمجھوتوں پر عمل درآمد کی رفتار کا بھی جائزہ لیا ۔ ایران اور ہندوستان کے وسیع تجارتی تعلقات ہیں اور ایران کی وزارت تجارت کے مطابق دونوں ملکوں کے مابین تجارتی لین دین کی شرح چودہ ارب ڈالر سے زیادہ ہے ۔ ایران اور ہندوستان کے درمیان تجارتی تعاون کی سب سے زیادہ صلاحتیں، توانائی کے شعبے میں پوشیدہ ہيں اور ان میدانوں میں دونوں ہی ممالک اپنے تعاون کو فروغ دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں ۔ ہندوستان کو اپنی اقتصادی ترقی کے عمل کو جاری رکھنے کے لئے توانائی کی بہت زیادہ ضرورت ہے اور وہ امریکہ کے دباؤ کے باوجود ایران کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے میں پوری دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ ہندوستان کی منڈیوں کو توانائی کی اشد ضرورت ہے ۔ایران توانائي کے ذخائر کے اعتبار سے تیل کے شعبے میں دنیا کا تیسرا اور گیس کے شعبے میں دوسرا بڑا ملک ہے اور وہ ہندوستان کی توانائی کی ضرورتوں کو پورا کرسکتا ہے ایران کی پٹرولیم کی وزارت کے مطابق اس وقت چار سوبیرل روزانہ تیل ایران سے ہندوستان کو برآمد کیا جاتا ہے جو ہندوستان کی تیل کی درآمدات کا بارہ سے چودہ فیصد ہے ۔ امن گیس پائپ لائن کی صورت میں توانائی کے شعبے میں ایران اور ہندوستان کے درمیان تعاون کے وسیع مواقع فراہم ہيں اور ہندوستان ان مواقع سے بھرپور استفادہ کرسکتا ہے ۔ اس کے علاوہ ہندوستان اور ایران علاقے کی دوبڑی طاقتوں کی حیثیت سےعلاقائی و ایشیائی سطح پر اہم کردار ادا کرسکتے ہيں جس سے مستقبل میں علاقے ميں بڑی طاقتوں کی مداخلت کے امکانات بھی کم ہوجائيں گے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110