6 مارچ 2011 - 20:30

صہیونی ریاست ایک طرف تو فلسطینی سرزمین پر اپنے قبضے کو برقرار رکھتے ہوئے اسے مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی کوششوں میں لگی ہوئي ہے اور دوسری طرف وہ دنیا کو دھوکہ دینے کے لیے اپنا امن پسند چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں صہیونی ریاست کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک پرفریب بیان میں کہا ہے کہ وہ عارضی سرحدوں کے ساتھ ایسی فلسطینی ریاست کے قیام کے مخالف نہیں ہیں کہ جس کی نہ اپنی فوج ہو نہ دفاع اور نہ ہی اپنی خارجہ پالیسی، لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کیا جائے۔

ابنا: صہیونی وزیراعظم کی اس تجویز کو فلسطینیوں نے سختی سے مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسی تجویز پہلے بھی صہیونی ریاست پیش کر چکی ہے اور دوبارہ بھی یہ تجویز پیش کی گئی تو وہ اس کی بھرپور مخالفت کریں گے۔ ایسی کوئی بھی تجویز فلسطینیوں کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ صہیونی ریاست مختلف طریقوں سے ایک آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے راستے میں روڑے اٹکا رہی ہے۔ نیتن یاہو یہ تجویز پیش کر کے دراصل عملا ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا امکان ختم کر دینا چاہتا ہے۔ اب فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کی سازشیں خطرناک اور پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو گئي ہیں اور وہ ایک طرف تو فلسطینیوں کے کچلنے اور صہیونی بستیوں کو توسیع دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور دوسری طرف دنیا کو فریب دینے کے لیے وہ امن کے بھیس میں اپنے استعماری منصوبے پیش کر رہی ہے کہ جو کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہیں۔ صہیونی ریاست نے اب مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صہیونی کالونیوں کی تعمیر کا کام تیز کر دیا ہے اور گزشتہ پانچ ماہ کے دوران اس کام میں کافی تیزی دیکھنے میں آئی ہے اور اس نے صہیونی کالونیوں میں ہزاروں رہائشی مکانات کی تعمیر مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ کئی دیگر منصوبوں پر کام شروع کر رکھا ہے اور صہیونی کالونیاں سرطانی غدود کی طرح مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جگہ جگہ پھیل رہی ہیں اور صہیونی حکام ان کالونیوں کو ایک دوسرے سے متصل کر کے اور فلسطینی علاقوں کو ایک دوسرے سے جدا کر کے عملی طور پر فلسطینیوں کے رہنے کے لیے کوئی جگہ چھوڑنا نہیں چاہتے ہیں۔ فلسطینی علاقوں میں صہیونی کالونیوں کی تعمیر نے خاص طور پر گزشتہ دس برسوں کے دوران فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد کو بے گھر کیا ہے۔ فلسطینی علاقوں کے قلب میں صہیونی کالونیوں کی تعمیر و توسیع نہ صرف ان علاقوں میں جغرافیائی ڈھانچے بلکہ آبادی کے تناسب کو بھی تبدیل کر رہی ہے۔ صہیونی ریاست قدس اور دریائے اردن کے مغربی کنارے کو صہیونی رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے اور وہ وہاں سے تمام اسلامی اور عرب آثار مٹانے کے درپے ہے۔ اس نے ان علاقوں کے تمام مقدس اور تاریخی مقامات کے نام تبدیل کر کے عبرانی زبان میں رکھ دیے ہیں اور وہ فلسطینیوں کے گھروں اور کھیتوں کو تباہ کر کے ان پر قبضہ کر رہی ہے۔ صہیونی ریاست کے ان تمام تر ناجائز اور جارحانہ اقدامات کو دیکھتے ہوئے دنیا نے اس پر ردعمل ظاہر کیا اور کچھ عرصہ قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کر کے فلسطینی علاقوں میں صہیونی کالونیوں کی تعمیر کی مذمت کی لیکن امریکہ نے غیرمنصفانہ ویٹو پاور کا استعمال کر کے اس قرارداد کو منظور نہیں ہونے دیا اور عملا صہیونی کالونیوں کی تعمیر کاراستہ ہموار کر دیا۔ صہیونی ریاست کی ناجائز حمایت کی امریکہ کی پالیسی نے صہیونی ریاست کو اپنی غیرقانونی اور ناجائز پالیسیاں جاری رکھنے کے سلسلے میں گستاخ کر دیا ہے۔ اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ عرب ممالک میں اسلامی بیداری کی جو لہر کی پیدا ہوئی ہے اس سے نہ صرف عرب ملکوں کے ڈکٹیٹروں کی نیندیں اڑ گئی ہیں بلکہ ان کے آقا امریکہ اور اسرائیل کو بھی سخت تشویش لاحق ہو گئی ہے۔ اس لیے کہ اگر عرب ممالک میں عوام کی خواہشات کے مطابق جمہوری حکومتیں قائم ہو گئیں تو اسرائیل کا ناجائز وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ فلسطینیوں کی سرزمین پر قبضہ کر کے جو ایک ناجائز حکومت تشکیل دی گئی ہے وہ انہی پٹھو عرب حکمرانوں کی وجہ سے اب تک قائم ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ استعمار سے وابستہ ڈکٹیٹروں کی حکمرانی کا زمانہ اب گزر چکا ہے اور بہت جلد ایک ایک کر کے عوام ان کی بساط لپیٹ دیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110