28 فروری 2011 - 20:30

سعودی عرب میں الشباب الاحرار نامی تنظیم نے سعودی عرب میں ظلم و امتیاز کے خاتمے اور بنیادی تبدیلیوں کا مطالبہ کرتے ہوئے یوم الغضب منانے کا اعلان کیا ہے۔

ابنا: سعودی عرب میں الشباب الاحرار نامی تنظیم نے ایک بیان میں سعودی حکومت کو 11 مارچ تک بنیادی تبدیلی لانے کی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی حکام اس تاریخ تک عوامی مطالبات اور آئینی اصلاحات پر عمل در آمد کرنے کی کوشش کریں بصورت دیگر سعودی نوجوان بھی دیگر عرب ممالک کے نوجوانوں کی طرح سعودی عرب میں ظالم بادشاہی نظام کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کردیں گے۔بیان میں سیاسی قیدیوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ بیان میں تاکید کی گئی ہے کہ حکومت کی طرف سے سیاسی و آئینی تبدیلیاں نہ لائے جانے کی صورت میں اس (سعودی حکومت) کو اس کے سنگين نتائج بر آمد ہونگے۔

ریڈیو تہران کی خبر:

سعودی عرب میں مظاہروں کی تیاری  سعودی عرب میں جوانوں نے گيارہ مارچ کو یوم غضب منانے کا اعلان کیا ہے۔ ارنا کی رپورٹ کے مطابق شہر قطیف اور دیگر مشرقی شہروں میں گذشتہ ہفتے کے مظاہروں کے بعد سعودی عرب کے جوانوں اور مزدوروں نے سیاسی قیدیوں کی رہائي اور ملک میں اصلاحات کی مانگ کرتےہوئے گيارہ مارچ کو روز غضب منانے کا اعلان کیا ہے۔ اس دن ریاض میں مظاہرے کئےجائيں گے۔ ادھر صوبہ الاحساءمیں انسانی حقوق تنظیم کے ایک کارکن صادق رمضان نے کہاکہ سعودی باشندے ملک میں شدید بے روزگاری، غربت، ہاوسنگ سہولتوں کے فقدان اور حکمران خاندان میں رائج بے پناہ بدعنوانیوں سے تنگ آچکے ہيں اور ان میں شدید بے چینی پائي جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کی انتھا پسندانہ تفسیر اور خاندان سعود کا بد عنوانیوں میں ڈوب جانااور سیاسی آزادی کا نہ ہونا وہ اسباب ہیں جو سعودی باشندوں کو انقلاب زندہ باد کے نعرے لگانے پر مجبور کررہےہیں اور ایسا لگتا ہےکہ عرب ملکوں کا انقلاب آل سعود کی بنیادیں ہلائے بغیر مکمل نہیں ہوگا۔

دوسری طرف سے سعودی عرب کےایک مذہبی رہنما شیخ حسین بوخمسین نے بھی سیاسی سماجی اور مذہبی آزادی کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔راصد ویب سائٹ کے مطابق شیخ حسین بوخمسین نے الھفوف شہر میں ایک مذہبی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہيں کہ سیاسی و سماجی عقائد کو کھل کر بیان کرنے کے لئے ماحول سازگار ہونا چاہئے۔بوخمسین نے بین الاقوامی انسانی حقوق کا حوالہ دیتے ہوئے تاکید کی کہ آزادی فکر، انتخاب دین، اظہار عقیدہ، دینی تعلیمات اور مذہبی مراسمات کا انعقاد ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔دریں اثناء ایک سعودی تجزیہ نگار اور اسکالر حمزہ الحسن نے عوام کا منہ بند کرنے کے لئے ان کے لئے مالی امداد کے اعلان کو ناکافی قرار دیا ہے۔حمزہ الحسن نےالعالم کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ القطیف اور العوامیہ شہروں میں پر امن مظاہروں سے سعودی عوام کا مقصد، سعودی عرب میں سیاسی اصلاحات ہیں اور ملک کا بادشاہ مالی مدد اور رشوت کےذریعے عوام کو ان کے سیاسی اصلاحات کے مطالبے سے روک نہیں سکتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110