بسم اللہ الرحمن الرحیم
استعماری طاقتوں کا جنون اور علاج
حسن مصطفی
کہتے ہیں کہ ایک دن حکیم جالینوس نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ میرے لئے فلان فلان اشیا سے دوائی تیارکرو۔ سب شاگرد جالینوس کے پاس چلے گئے اور پوچا :استاد یہ نسخہ تو پاگلوں کے علاج کےلئے ہے جبکہ آپ تو ٹھیک ٹھاک ہیں۔ جالینوس نے ان کے جواب میں کہا کہ کل میں ایک پاگل کے ساتھ آدھ گھنٹہ بیٹھا تھا اس لئے احتیاطاً یہ نسخہ استعمال کررہاہوں۔ان دنوں عرب دنیا میں لوگ حکمرانوں کے سامنےسینہ سپر ہیں لیکن استعماری طاقتیں کسی بھی طور پیچھے ہٹنے پر تیارنہیں۔ مصر کو دیکھیں حسنی مبارک کے بعدعمرسلیمان کو اوپر لایا گیا جس کے تاریک ماضی کو کون نہیں جانتا ۔ یا اس اعلی فوجی کمیٹی کو زرا دقت سے دیکھیں تو یہ بھی عالمی استکبار کے وہی پرانے مہرے ہیں جو تیس تیس سال اس فاسد نظام کا حصہ رہے ہیں۔ تیس سال کے عرصے میں انھوں نے امریکہ اوراسرائیل کی وفاداری کا ثبوت دیا ہیں حتے کہ اب بھی یہ امریکہ اور اسرائیل کےفرمانبردارہیں ۔اس بات کا اندازہ اپ یہاں سے لگا سکتے ہیں کہ حسنی مبارک کےبعد جب یہ اعلی فوجی کمیٹی بر سر اقتدار آئی تواس نے سب سے پہلا اعلان یہ کیا کہ "قاہرہ "کیمپ ڈیوڈ معائدے سمیت سب بین الاقوامی معایدوں کا پابند ہے ۔جب اس کمیٹی کے سربراہ محمد حسین طنطاوی نے یہ بیان دیا تو عالمی استکبار خصوصاامریکہ اور اسرائیل کی رکی ہوئے سانس دوبارہ چلنے لگی اور ان ممالک میں خوشیوں کی ایک نیا لہر اٹھی اور ان کےمایوس چہروں پر دوبارہ خوشی کے آثار نظر آنے لگے ۔اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے کہاکہ ہم مصر کی سربراہی کمیٹی کے اس موقف کو سراہتے ہیں جس میں انھوں کیمپ ڈیویڈ معاہدے پر پابند رہنے کو کہا ہے چونکہ مصر کا اسرائیلی معاہدوں پر پابند ہونا دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے اور کیمپ ڈیویڈمعاہدہ وسطی اشیاء میں قیام امن کے لئے سنگ بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے ۔ وائٹ ہاوس نےبھی اعلی فوجی کمیٹی کے بیانات کو سراہتے ہوئے یہ کہا کہ مصر کی اعلی فوجی کمیٹی کاموقف بالکل صحیح ہے ۔ایک لبنانی سائٹ "لبنان الان"نے لکھا ہے کہ اسرائیلی میڈیا نے اسرائیلی وزیر جنگ ایہود باراک اور مصر کی اعلی فوجی کمیٹی کے سربراہ محمد حسین طنطاوی کے درمیان ٹیلیفونی گفتگو ہوئی ہے جو مثبت رہی ہے اور طنطاوی نے اسرائیل کو یہ بتایا ہے کہ مصرماضی کی طرح اب بھی صلح معاہدے کاپابند ہے ۔اب ذرا ملاحظہ فرمائیں کہ اگر جالینوس دیوانے کے ساتھ آدھا گھنٹہ بیٹھ جائے تو اسے احتیاطاً دوائی کھانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو یہ جو استکباری طاقتیں گزشتہ کئی سالوں سے استعماری جنون میں مبتلا ہیں انکا علاج کرنے اور ان کے ہوش ٹھکانے لگانےکے لئے اقوام عالم کو مل کر کیا کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
......
/110