ابنا: معمرقذافی نے یہ دھمکی ایک ایسے وقت دی ہے جب گذشتہ جمعہ پچیس فروری کو لیبیا کے عوام کا بڑے پیمانے پر قتل عام کیا گیا ۔اب تک لیبیا کے دسیوں ہزار افراد حکومت کی سیکورٹی فورسز اور قذافی کے ایجنٹوں کے ہاتھوں ہلاک یا زخمی کئے جاچکے ہيں ۔لیبیائی عوام کے بہیمانہ و بے رحمانہ قتل عام کی دنیا بھر میں مذمت کی جارہی ہے ۔ یورپی یونین نے مظاہرین کے خلاف قذافی حکومت کے وحشیانہ اقدام کے خلاف ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے لیبیائی حکومت کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یورپی یونین نے کہا ہے کہ وہ لیبیا کے لئے اسلحوں کی ترسیل اور ایسی چیزوں کی برآمدات پر پابندی عائد کررہی ہے جن کو عوامی مظاہروں کو کچلنے میں استعمال کیا جاسکتا ہو ، اسی طرح قذافی اور ان کے گھر والوں کے اثاثے منجمد کررہی ہے ۔ یورپی یونین نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ قذافی اور ان کے گھروالوں کو یورپی ملکوں کا ویزا نہيں دیا جائے گا ۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے جمعہ اور سنیچر کی درمیانی رات اپنے ہنگامی اجلاس میں جو جنیوا میں منعقد ہوا لیبیا میں انسانی حقوق کے موضوع کا جائزہ لیا ۔آئندہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ میں بھی اس کمیشن کا ایک اجلاس ہوگا جس میں اس کمیشن سے لیبیا کو نکال دئے جانے کے بارے میں فیصلہ کیا جائےگا ۔ لیبیا کے اندر بھی قذافی کے ہاتھوں عوام کے قتل عام پر احتجاج کرتے ہوئے لیبیائي حکام ایک ایک کرکے اپنے عہدوں سے استعفاء دے رہے ہيں ۔ لیبیا کے اٹارنی جنرل عبدالرحیم العبار نے جو قذافی کے چچازاد بھائی ہيں مظاہرین کے قتل عام پر احتجاج کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفاء دے دیا ہے۔ طرابلس میں فضائیہ کی سب سے بڑی چھاؤنی نے اپنے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ وہ قذافی سے اپنی وفاداری واپس لیتی ہے اور انقلابیوں کے ساتھ شامل ہورہی ہے۔ اسی طرح طرابلس کے ہی علاقے تاجورا، فوجی چھاؤنی کے جوان بھی انقلابیوں کے ساتھ شامل ہوگئے ہيں ۔ اس وقت تقریبا ملک کے آدھے حصے پر عوام کا کنٹرول ہوگیا ہے ۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ لیبیا کی متعدد سیاسی اور فوجی شخصیات نے ایک شورای یا کونسل تشکیل دی ہے اور اب وہ اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ قذافی کے بعد ملک کا نظم و نسق کس طرح چلایا جائے ۔ یہ سب کچھ ایسے وقت ہورہا ہے جب قذافی نے اپنی تازہ ترین تقریر میں عوام کا اور بڑے پیمانے پر قتل عام کرنے کی دھمکی دی ہے ۔ قذافی نے کہا ہے کہ جو مجھے پسند نہیں کرتا اسے زندہ رہنے کا حق نہيں ہے ۔ قذافی نے اپنے اس طرح کے غیرمنطقی اور دیوانہ وار بیانات و موقف کے ذریعہ اور لیبیا میں عوام کی لاشوں کا انبار لگاکر ایک گھناؤنی تاریخ لکھنے کی کوشش کی ہے گذشتہ چند دنوں کے اندر ہی ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کا خون ایک ایسے آمر کا پتہ دیتا ہے جس نے گذشتہ اکتالیس برسوں سے عوام پر بدترین حکومت کی ہے ۔ اس میں شک نہيں ہے کہ لیبیا میں عوامی احتجاج کا دائرہ جس تیزی سے پھیلتا جارہا ہے اس کے پیش نظر قذافی اپنی سیاسی حیات کی آخری سانسیں لے رہے ہيں خاصطور پر اس لئے بھی کہ ملک کے بیشتر قبائل نے جو پہلے قذافی کے وفادار تھے اب ان سے علیحدگی کا اعلان کردیا ہے اس وقت قذافی ہر دور سے زیادہ اکیلے اور تنہا پڑ گئے ہيں کیونکہ ان کے یورپی اتحادیوں نے بھی ان سے اپنا راستہ الگ کرلیا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110