24 فروری 2011 - 20:30

میدان اللؤلؤة میں عوام کے درمیان مباحثے / ریلی کے لئے دو روٹس / برسلز میں دھرنا / احتجاج حقیقی آزادی تک / تصویریں اور ویڈیو بنانا ممنوع / اس حکومت کے ساتھ بات چیت ناممکن / انقلاب نوجوانوں کے ہاتھ میں ...

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین کے مظلوم عوام نے آل خلیفہ کے خلاف اپنے احتجاج کا بارہواں روز ایسے حال میں شروع کیا ہے کہ آج بحرین میں اس ملک کی کی تاریخ کی سب سے بڑی ریلی کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ جمعہ 25 فروری کے واقعات:ساعت 00:05 بجے ـ ـ میدان اللؤلؤة میں عوام کے درمیان مباحثےمیدان اللؤلؤة میں احتجاج کرنے والے بحرینی عوام کا پر امن احتجاجی دھرنا جاری ہے۔بحرینی دانشور "عبداللہ خمیس" کے مطابق ہزاروں افراد اس وقت میدان اللؤلؤة میں موجود ہیں۔دیگرذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق اس وقت جس موضوع پر گرم مباحثے ہورہے ہیں وہ یہ ہے کہ "کیا حکومت کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں یا مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہے؟ میدان میں موجود لوگوں کی غالب اکثریت مذاکرات کو مسترد کرتے ہیں اور وہ خلیفہ خاندانی کی حکمرانی کا قطعی خاتمہ چاہتے ہیں۔ 00:15 بجے ـ ـ مظاہرے کے دو روٹسمیدان میں موجود لوگوں کے علاوہ بحرین کی اکثریت نے آج کے مظاہرے میں حصہ لے رہی ہے۔ وہ نماز جمعہ کے بعد میدان اللؤلؤة کی جانب جلوس نکالیں گے اور مظاہرہ کریں گے اور میدان میں دھرنے والوں سے جاملیں گے۔ بحرین کے بزرگ علماء «آیت‏اللہ شیخ عیسی قاسم»، «آیت‏اللہ سید عبداللہ الغریفی»، «سید جواد الوداعی»، «شیخ محمد سند»، «شیخ عبدالحسین الستری» و «شیخ محمد صالح الربیعی»، پر مشتمل مجمع نے ایک بیان جاری کرکے جمعہ کو "قومی سوگ" کا دن قرار دیا ہے اور لوگوں کو دعوت دی ہے کہ یوم سوگ پر عظیم اور تاریخی ریلی اور مظاہرے میں شرکت کریں۔00:30 بجے ـ ـ برسلز میں بھی دھرنایورپ: برسلز میں مقیم بحرین اور دیگر عرب ممالک کے باشندوں نے یورپی یونین کے دفتر کے سامنے دھرنا دے کر بحرین کے واقعات کے سلسلے میں امریکہ اور یورپی ممالک کی مجرمانہ خاموشی پر احتجاج کیا ہے۔01:00 بجے ـ ـ احتجاج حقیقی آزادی تکبحرینی پارلیمان کے مستعفی رکن اور الوفاق الاسلامی جماعت کے راہنما «جاسم حسین» نے بحرین میں عوامی اور سیاسی احتجاج جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا: یہ احتجاج ملک میں تبدیلی اور مشرق وسطی میں مسامحت اور تحمل و بردباری سمیت جمہوریت کے فروغ کا ذریعہ ہے۔ انھوں نے کہا: بحرین میں عوامی اور سیاسی احتجاج منتخب حکومت کے قیام، آزادانہ اور حقیقی انتخابات کے نتیجے میں نئی پارلیمان کا قیام، امتیازی رویوں کے مکمل خاتمے اور ملکی دولت کی منصفانہ تقسیم جیسے مطالبات کے حصول تک جاری رہے گا، کیونکہ یہ سارے قانونی مطالبات ہیں۔ انھوں نے 308 سیاسی قیدیوں کی رہائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم اس سلسلے میں زیادہ سے زیادہ مثبت اقدامات کا انتظار کررہے ہیں۔ 01:30 بجے ـ ـ خلیفی حکومت دنیا تک احتجاج کی اطلاعات پہنچنے سے ہراساں آل خلیفہ کی حکومت کے وزیر داخلہ نے بحرینی عوام کے احتجاج کی خبریں اور تصویریں بیرون ملک پہنچنے کے خوف سے میدان اللؤلؤة کے آس پاس اونچی عمارتوں کے اوپر سے مظاہروں اور دھرنوں کی تصویریں اور ویڈیو بنانے پر پابندی لگائی ہے۔ اس نئی ظالمانہ پالیسی کے تحت ان عمارتوں کے مینجروں نے عمارتوں کے لفٹوں اور کارپارکنگ کے مقام پر نوٹس لگا کر وزارت داخلہ کے اس حکمنامے سے ساکنین کو آگاہ کرنا شروع کردیا ہے۔

1

نوٹس میں لکھا گیا ہے:تمام مالکین اور کرایہ دارتوجہ کریں کہ:* اپنے فلیٹوں کے دروازے اور کھڑکیاں شب و روز بند رکھیں کھڑکیوں سے ہر قسم کی ویڈیو یا تصویر بنانے سے اجتناب کریں۔* ہمیں وزارت داخلہ سے حکم ملا ہے جس کے مطابق فلم یا تصویر بنانا منع ہے اور ممنوعیت کا یہ حکم آپ کی سلامتی کے تحفظ کے لئے جاری کیا گیا ہے!.آپ کے تعاون کا شکریہ ـ منیجمنٹ اسی اثناء میں وزارت داخلہ کے اہلکاروں نے میدان اللؤلؤة کے قریب ایک شہری کے گھر میں داخل ہوکر ان کے کیمرے اور کمپیوٹر کی تلاشی لی ہے۔ واضح رہے کہ کئی بلند عمارتیں ـ بحرینی عوام کے دھرنے کے مرکز ـ میدان اللؤلؤة ـ کے آس پاس واقع ہیں اور انقلابی نوجوان اپنے دھرنوں، مظاہروں اور ریلیوں کا ریکارڈ محفوظ کرنے کے لئے ان عمارتوں سے استفادہ کرتے رہے ہیں۔

2

02:00 بجے ـ ـ اس حکومت کے ساتھ بات چیت ناممکنبحرین کی انسانی حقوق کمیٹی کے رکن «سید یوسف عبد الجلیل» نے کہا: اس وقت وہی لوگ ہمیں مذاکرات کی دعوت دے رہے ہیں جنہوں نے لوگوں کا خون بہایا. ہم ایسی حکومت کے ساتھ بات چیت کیونکر کرسکتے ہیں جس کی فوج نے عوام کو گولیوں کا نشانہ بنایا؟۔انھوں نے حمد بن عیسی آل خلیفہ کے دورہ سعودی عرب کے بارے میں کہا: بحرینی عوام کو اس دورے سے کوئی فائدہ نہیں ملنے والا؛ آپ نے خود دیکھا کہ سعودی عرب کی فوج بھی بحرینی فورسز کی مدد کے لئے آئی؛ چنانچہ سعودی عرب حکومت کا ساتھ دے رہا ہے اور اس دورے سے ہمارے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ملے گا۔ 02:30 بجے ـ ـ انقلاب نوجوانوں کے ہاتھ میںبحرین کے ایک سیاسی راہنما نے کہا: اس وقت سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیمیوں کی بات حرف آخر نہیں ہے بلکہ مذاکرات کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں آخری بات ان نوجوانوں کی بات ہے جو کئی روز سے دارالحکومت کے میدان اللؤلؤة میں دھرنا دینے کے لئے بیٹھے ہیں۔ انھوں نے زور دے کر کہا: اس وقت صورت حال یہ ہے کہ انقلابی نوجوان انقلاب جاری رکھنے، مذاکرات کرنے یا مذاکرات نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں جبکہ سیاسی شخصیات اور جماعتوں کی بات حرف آخر نہیں ہے۔

 

 7:30  بامداد بجے ـ ـ ہڑتال مطالبات کی منظوری تک

بحرین کے زیرک اور پرعزم عوام اپنے قانونی مطالبات کی مکمل منظوری کی درپز ہیں۔ انھوں نے ابنا کی نامہ نگار سے بات چیت کرتے ہوئے تأکید کی ہے کہ مطالبات کی منظوری تک سرکاری اداروں میں حاضر نہیں ہونگے۔

ابنا کے نامہ نگار کے مطابق عوام کے مختلف طبقات، ڈاکٹرز اور اساتذہ سمیت عوام نے بھی اپنا کاروبار بند کردیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ جب تک مطالبات منظور نہ ہونگے وہ کام کاج کی طرف توجہ نہیں دیں گے۔

 12:00 بجے ـ ـ لوگ نماز جمعہ کی طرف روانہ ہوگئے ہیں

منامہ کی عوام شہر کے مختلف علاقوں سے نمازجمعہ کی ادائیگی کے لئے دراز کے علاقے میں پہنچ رہے ہیں۔ میدان اللؤلؤة میں دھرنے میں شریک افراد بھی بسوں کے ذریعے مسجد امام صادق علیہ السلام کا رخ کررہے ہیں۔

عوام نماز جمعہ کی جانب جاتے ہوئے نعرہ لگا رہے تھے  "تبت یدا ابی لہب  العن علی آل حَمَد"

 12:20  بجے ـ ـ رہا ہونے والے قیدیوں کو سخت تشدد کا نشانہ بنایا گیا 

بحرین میں قومی شہداء و متأثرین تشدد کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ حال ہی میں رہا ہونے والے سیاسی قیدیوں کو نہایت سخت تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے اور ان کے ساتھ نہایت توہین آمیز سلوک روا رکھا گیا ہے۔

کمیٹی کے رکن "عبدالغنی الخنجر" نے سیاسی قیدیوں کی نہایت افسوسناک حالت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بحرین میں قید کئے جانے والے سیاسی و غیر سیاسی قیدیوں کو نہایت دشوار صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ بیرونی دنیا سے بالکل بے خبر ہوتے ہیں اور رہا ہونے والے سیاسی قیدیوں کو تو اپنے وکلاء اور افراد خاندان سے ملاقات کرنے کی اجازت تک نہیں تھی۔

انھوں نے کہا: قیدیوں کو ٹارچر کرنا، ان پر تشدد کرنا اور ان کی توہین کرنا ان تمام بین الاقوامی قوانین اور معیاروں کی کھلی خلاف ورزی ہے جن پر بحرین کی حکومت نے بھی دستخط کئے ہیں۔

الخنجر نے حال ہی میں کئی بحرینی ہموطنوں کی شہادت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بحرین کا انقلاب کامیاب ہوگا اور عوام اپنے مطالبات حاصل کرکے ہی دم لیں گے۔

 13:15  بجے ـ ـ بات چیت صرف حکومت کی طرف سے عینی یقین دہانی کی صورت میں