23 فروری 2011 - 20:30

"لیبیا کا غرور خاک میں" ایک مضمون کا عنوان ہے جو "محمد زکریا" صاحب نے لکھا ہے. اس مضمون میں ١٩ دسمبر ٢٠٠٣ء کے دن کے بارے میں درد و غم کی داستان لکھی گئی ہے۔

قذافی نے ان دنوں اپنے ملک کو نیست و نابود کرنے اور اپنی قوم کو تباہ و برباد کرنے کی کوششیں کر رکھی ہیں۔ انھوں نے افریقی ممالک سے ہزاروں کرائے کے قاتل بلوالئے ہیں جو لیبیائی عوام کو قتل کررہے ہیں۔ ملک کا ستر فیصد حصہ قذافی اور اس کے درندہ صفت بیٹوں کے ہاتھ سے نکل گیا ہے اور ان ہی دنوں قذافی نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے اپنی قصیدہ خوانی کی اور مغربی ممالک اور اسرائیل کے خلاف جدوجہد کے دعوے کئے چنانچہ ہم یہاں محمد زکریا کے اس مضمون سے استفادہ کرکے مغرب کے سامنے ان کی ذلیلانہ پالیسیوں اور مغرب سے ان کے شدید خوف کی داستان اپنے قارئین اور صارفین کی نذر کرتے ہیں۔

محمد زکریا لکھتے ہیں:

19 دسمبر 2003 کا دن بھی لیبیا کی تاریخ کا ایک ناقابل فراموش دن تھا۔ طرابلس نے اعلان کیا کہ وہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے متعلق تمام دستاویزات بین الاقوامی اور امریکی مندوبین کے حوالے کردے گا۔ نیز لیبیا جوہری پروگرام سے بھی فی الفور دستبردار ہوتا ہے تاکہ لیبیا بین الاقوامی برادری میں تنہا نہ ہو جائے اور اُسے اُن حالات سے نہ گزرنا پڑے جن کا سامنا عراق کر رہا ہے۔

طرابلس نے درج ذیل نکات پر یہ نیا معاہدہ کیا ہے۔

.... تمام جوہری اور حیاتیاتی اسلحہ تلف کیا جائے گا۔

.... اب تک جوہری پروگرام میں جو پیش رفت ہو چکی تھی وہ بین الاقوامی تفتیش کاروں کے سامنے لائی جائے گی۔

300 کلو میٹر سے زائد مار کے میزائل تلف کردے گا۔

.... جوہری ہتھیاروں کے عدم استعمال اور عدم پھیلاؤ کے بین الاقوامی قوانین پر دستخط کرے گا۔

.... بین الاقوامی تفتیش کاروں سے مکمل تعاون کرے گا۔

مندرجہ بالا معاہدے کی تفصیلات حیات اخبار نے شائع کی ہیں۔

معمر قذافی کے فرزند سیف الاسلام قذافی نے اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے اس معاہدے کے فوائد کچھ یوں گنوائے:

·                         واشنگٹن اور لندن نے لیبیا کو یقین دلایا ہے کہ اس معاہدے سے اُسے سیاسی اور معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔

·                         جب مغرب ہم سے جنگ نہیں کرنا چاہتے بلکہ تعلقات بہتر کرنا چاہتا ہے تو ہمیں بلاوجہ سردمہری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔

·                         ہم جوہری ہتھیار اپنے دشمن (اسرائیل) سے ممکنہ جنگ کے پیش نظر بنانا چاہتے تھے اب جبکہ اسرائیل اور فلسطین ایک دوسرے کو تسلیم کر چکے ہیں (اشارہ ہے معاہدہ اوسلو کی طرف) تو اُس کے بعد اِن ہتھیاروں کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔

یاد رہے کہ معاہدہ اوسلو ١٩٩٤ءمیں ہوا تھا اور لیبیا اب تک اُن ممالک میں سے ایک تھا جو شدت سے اس معاہدے کا انکار کرتے رہے ہیں لکہ فلسطینی حکمرانوں کی بے چارگی کو ثابت کرنے کے لیے لیبیا نے اس معاہدے کے بعد ١٩٩٥ء میں فلسطینی پناہ گزینوں کو مصر کی صحرائی حدود میں لا کر پھینک دیا، جہاں شدید گرمی تھی اور خوراک کے وسائل نہایت کمیاب تھے، بچے بوڑھے بیمار اور خواتین کئی مہینے بے یارومددگار صحرا نشین رہے۔ اس ظلم سے لیبیا یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ معاہدہ اوسلو ایک لغو معاہدہ ہے اور فلسطینی حکمران اپنے شہریوں کو تحفظ دینے سے یکسر قاصر ہیں۔

سیف الاسلام نے مزید کہا کہ کرنل قذافی اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ عرب ممالک نے لیبیا کو قربانی کا بکرا بنایا ہوا ہے مگر ہم اس نئے معاہدے سے دوبارہ بین الاقوامی برادری میں شامل ہو جائیں گے اور عرب ممالک میں جو نئی تبدیلی آرہی ہے اُس میں ہم بھی شریک کار ہوں گے۔

لیبیا پر 1992ء میں معاشی پابندی لگ گئی تھی۔ بین الاقوامی عدالت کا مطالبہ تھا کہ دو اشخاص عبدالباسط اور امین خلیفہ کو اُن کے حوالے کیا جائے جو امریکہ کے ایک مسافر بردار طیارے کو میزائل داغنے میں مطلوب ہیں۔ طیارے کے اس حادثے میں تمام مسافر جاں بحق ہو گئے تھے۔ طویل عرصے تک طرابلس اِن دو نامزد ملزمان کو عدالت کے حوالے کرنے سے انکار کرتا رہا لیکن

بالآخر لیبیا کو امریکہ کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے

اُن میں سے عبدالباسط کو عمر قید کی سزا ہو چکی ہے اور دوسرا الزامات ثابت نہ ہونے کی وجہ سے بری ہو گیا ہے۔ حادثے میں ہلاک ہونے والے مسافروں کے اہل خانہ کو لیبیا کثیر معاوضہ بھی دے گا۔ اِس معاہدے کی رو سے ہر خاندان کو ایک مسافر کے بدلے دس ملین ڈالر (ایک کروڑ ڈالر) معاوضہ لیبیا ادا کرے گا۔

لیبیا کے محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ اِن پابندیوں سے ہمیں ہر سال تین ارب ڈالر کا خسارہ ہوتا ہے۔

مندرجہ بالا معاہدہ طے ہونے کے بعد لیبیا سے اقتصادی پابندی اس لیے نہیں اُٹھائی جا سکی کہ فرانس نے ویٹو کا حق استعمال کرتے ہوئے یہ شرط لگائی کہ ١٩٨٩ء میں فرانس کے ایک مسافر بردار طیارے کو لیبیا نے مار گرایا تھا۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان معاوضہ کی رقم ٣٤ ملین ڈالر طے ہو چکی تھی مگر فرانس اب اس پر راضی نہیں ہے لہٰذا یہ معاوضہ ٣٤ ملین ڈالر سے بڑھا کر ١٧٠ ملین ڈالر کیا جائے۔ فرانس کے ساتھ اس زائد رقم کی ادائیگی کے معاہدے کے بعد لیبیا سے اقتصادی پابندیاں اُٹھانے کی یقین دہانی کرائی جا سکے۔

جوہری اسلحہ کے بین الاقوامی تفتیش کار اب لیبیا میں آزادانہ کام کر سکیں گے

امریکہ اور برطانیہ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ معاہدے کی رو سے جب لیبیا میں جوہری اور حیاتیاتی اسلحہ کی تلاش کا کام کیا گیا تو لیبیا ہمارے توقعات کے برعکس جوہری ٹیکنالوجی میں بہت کچھ کر چکا تھا، نیز لیبیا کے پاس ایسی گیس بھی ملی ہے جو انسانی جسم پر پھینکنے سے جسم کے اندر اور بیرون جسم خون کا اخراج شروع ہو جاتا ہے او رمتعلقہ شخص فوری طور پر ہلاک ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ لیبیا نے پہلی مرتبہ یہ اعتراف کیا ہے کہ وہ جوہری اسلحہ کی تیاری کے لیے سنجیدگی سے کوشش کر رہا تھا۔

تفتیش کاروں کی رپورٹ کے مطابق لیبیا نے ١٩٨٠ءاور ١٩٨٤ءمیں روس سے جوہری ایندھن حاصل کیا تھا جو روس کو واپس بھیج دیا گیا ہے اور جوہری مواد کی ترسیل پر سات لاکھ ڈالر لاگت آئی ہے۔ روس نے بھی تصدیق کی ہے کہ اُس نے اِس قسم کا مواد طرابلس سے وصول کیا ہے۔

اس معاہدے سے وفاداری نبھانے کے لیے لیبیا نے نسبتاً کم اہمیت کا حامل اسلحہ بھی امریکہ کے حوالے کیا ہے

جس میں سکڈ سی میزائل پانچ عدد اور اس کے گولے جو شمالی کوریا کی مدد سے لیبیا میں تیار کئے گئے تھے شامل ہیں۔ اس کے بدلے میں امریکہ نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھوٹے فاصلے تک مار کرنے والے سکڈ بی میزائل سے کوئی تعرض نہیں کیا۔ یہ میزائل ٣٠٠ میل سے کم فاصلے تک مار کرتے ہیں۔